کہا: اب چھوڑ دیجیے، مجھے جانے دیجیے
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 7 مارچ: بہار کی سیاست میں اس وقت ایک ایسا جذباتی موڑ آگیا ہے جس نے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر گلی کوچوں تک ہلچل مچا دی ہے۔ وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی جانب سے راجیہ سبھا کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کیے جانے کے فیصلے نے جنتا دل یونائیٹڈ (جے ڈی یو) کے کارکنان کو شدید صدمے اور غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔ گزشتہ دو دنوں سے پٹنہ میں واقع پارٹی دفتر ایک میدانِ جنگ کا منظر پیش کر رہا ہے، جہاں مشتعل کارکنان اپنے محبوب لیڈر سے فیصلے کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس سنگین صورتحال کو سنبھالنے کے لیے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر جے ڈی یو کے تمام اراکین اسمبلی اور وزراء کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی تھی، جس کے اندرونی احوال نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔میٹنگ کے دوران جب اراکین اسمبلی نے ایک زبان ہو کر نتیش کمار سے بہار نہ چھوڑنے کی منت سماجت کی، تو وزیر اعلیٰ ضبط کا دامن چھوڑ بیٹھے۔ وہ اس قدر جذباتی ہو گئے کہ ان کی آنکھیں نم ہو گئیں اور انہوں نے اراکین کے سامنے ہاتھ جوڑ کر انتہائی کربناک لہجے میں کہا کہ ’’اب چھوڑ دیجیے، مجھے جانے دیجیے‘‘۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ایک فیصلہ لے چکے ہیں اور اب پیچھے مڑنا ممکن نہیں ہے۔ نتیش کمار نے روتے ہوئے اراکین کو بھروسہ دلایا کہ اگرچہ وہ جسمانی طور پر دہلی میں ہوں گے، لیکن ان کی روح بہار میں رہے گی اور وہ وہاں سے بھی ریاست کی ترقی اور سیاسی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھیں گے۔ وزیر اعلیٰ کو اس طرح ٹوٹتے اور روتے دیکھ کر ہال میں موجود کئی اراکین اسمبلی اور وزراء بھی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیے۔دوسری جانب پارٹی دفتر میں احتجاج کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ کارکنان، خاص طور پر خواتین، اس فیصلے کو نتیش کمار کے خلاف ایک گہری سازش قرار دے رہی ہیں۔ جے ڈی یو کی خاتون کارکنان نے پارٹی کے ہی کچھ سینئر لیڈروں کو غدار قرار دیتے ہوئے انہیں ’جئے چند‘ کے خطاب سے نوازا، جن کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ کو مرکز بھیجنے کے لیے پسِ پردہ بی جے پی کے ساتھ گٹھ جوڑ کیا ہے۔ احتجاج اس قدر شدت اختیار کر چکا ہے کہ کچھ خواتین کارکنان نے اعلان کر دیا ہے کہ اگر نتیش کمار بہار کی سیاست سے کنارہ کش ہوئے تو وہ پارٹی دفتر کے سامنے خودسوزی کر لیں گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نتیش کمار صرف ایک وزیر اعلیٰ نہیں بلکہ بہار کی شناخت ہیں اور ان کے بغیر جے ڈی یو کا وجود ختم ہو جائے گا۔یہ پوری صورتحال اس بات کی طرف اشارہ کر رہی ہے کہ نتیش کمار کا راجیہ سبھا جانا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ بہار کی سیاست کے ایک طویل باب کا خاتمہ ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا کارکنان کے اس شدید ردعمل کے بعد نتیش کمار اپنے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہیں یا پھر وہ نم آنکھوں کے ساتھ بہار کو الوداع کہہ کر دہلی کی نئی باری شروع کریں گے۔



