واشنگٹن،23 فروری (یو این آئی) امریکی نائب وزیر خارجہ نے میکسیکو میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے دوران منشیات کے بدنام زمانہ سرغنہ کی ہلاکت کو ایک “بڑی پیش رفت” قرار دیتے ہوئے اس پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔امریکی نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ڈرگ لارڈ کو ایک منظم فوجی آپریشن کے دوران ہلاک کیا گیا، جو کہ نہ صرف میکسیکو اور امریکہ بلکہ پورے لاطینی امریکہ اور دنیا بھر کے لیے ایک انتہائی اہم کامیابی ہے۔امریکی نائب وزیر خارجہ نے اس کارروائی کو منشیات کے عالمی نیٹ ورک کے خلاف ایک بڑی ضرب قرار دیا۔تاہم، امریکی نائب وزیر خارجہ نے اس ہلاکت کے بعد میکسیکو میں پھوٹنے والے تشدد کے حالیہ مناظر اور جلاؤ گھیراؤ پر گہرے افسوس اور تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پرتشدد کارروائیاں اور سیکیورٹی فورسز پر حملے افسوسناک ہیں، اور امریکہ صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔واضح رہے کہ ڈرگ کارٹیل کے سرغنہ کی موت کے بعد میکسیکو کے مختلف حصوں میں کشیدگی برقرار ہے اور ڈرگ کارٹیلز کی جانب سے جلاؤ گھیراؤ اور حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔دوسری جانب میکسیکو میں منشیات کے سرغنہ کے خلاف ہونے والے حالیہ فوجی آپریشن پر میکسیکو میں قائم امریکی سفارت خانے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ (ایکس) پر اپنے ردِعمل کا اظہار کیا ہے۔سفارتی حکام کے مطابق یہ کارروائی میکسیکو کی اسپیشل فورسز نے دونوں ممالک کے درمیان ‘دو طرفہ تعاون’ کے فریم ورک کے تحت انجام دی، جس میں امریکی حکام نے تکمیلی انٹیلی جنس (خفیہ معلومات) فراہم کر کے بھرپور تعاون کیا۔دوسری جانب کینیڈین سفارت خانے نے بھی پورٹو والارٹا میں موجود اپنے شہریوں کو گھروں میں رہنے اور لو پروفائل برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ ریاست جالیسکو کے گورنر پابلو لیموس نے بھی عوام سے گھروں میں رہنے کی اپیل کرتے ہوئے عوامی ٹرانسپورٹ معطل کر دی ہے۔واضح رہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے ‘ایل مینچو’ کی گرفتاری کے لیے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز کے انعام کی پیشکش کر رکھی تھی۔
امریکہ کا میکسیکو میں منشیات کے سرغنہ کی ہلاکت پر ردِعمل
مقالات ذات صلة



