دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کا دعویٰ
غزہ، 20 فروری (یو این آئی) دی لینسٹ گلوبل ہیلتھ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق، پہلے پندرہ ماہ کے دوران غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی میں75,000 سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے،جو مقامی صحت کے حکام کی طرف سے اُس وقت اعلان کردہ 49,000 ہلاکتوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔نظرثانی شدہ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ اس مدت کے دوران پرتشدد ہلاکتوں میں 56.2 فیصد خواتین، بچے اور بزرگ تھے اور یہ تناسب غزہ کے محکمہ صحت کی رپورٹنگ کے ساتھ عمومی طور پر ہم آہنگ ہے۔یہ مطالعہ فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ نے تیار کیا اور رائل ہالوے، یونیورسٹی آف لندن کے مائیکل اسپاگیٹ کی قیادت میں کیا گیا، جس میں 30 دسمبر 2024 سے شروع ہونے والے سات روزہ دور میں 2,000 فلسطینی گھروں کا سروے شامل تھا۔”موجودہ شواہد کا مجموعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ 5 جنوری 2025 تک غزہ کی آبادی کا 3–4 فیصد پرتشدد طور پر ہلاک ہو چکا ہے، جنگ کے غیرمستقیم اثرات کی وجہ سے پرتشدد ہلاکتوں کی بھی کافی تعداد موجود ہے۔”محققین نے اندازہ لگایا کہ پہلے پندرہ ماہ کے دوران 75,200 پرتشدد ہلاکتیں ہوئیں، اس کے علاوہ بیماری، حادثات یا اسرائیل کی جنگ کے دیگر بالواسطہ اثرات سے منسلک 16,300 غیر پرتشدد ہلاکتیں بھی ہوئیں۔مصنفین نے اس سروے کو غزہ میں اموات کا پہلا آزاد آبادیاتی جائزہ قرار دیا جو محکمہ صحت کے انتظامی اعداد و شمار پر انحصار نہیں کرتا۔عملے نے غزہ کے اضلاع میں گھروں کے ساتھ بالمشافہ انٹرویوز کیے اور جواب دہندگان سے اُن خاندان کے افراد کی فہرست مانگی جو ہلاک ہو چکے تھے۔ اموات کے اندازے شماریاتی تجزیے کے ذریعے نکالے گئے، یہ نتائج 95 فیصد با اعتماد ہیں۔غزہ کے صحت کے حکام، جن کے اعداد و شمار کو اقوام متحدہ طویل عرصے سے معتبر مانتی رہی ہے، اب رپورٹ کر رہے ہیں کہ ہلاکتوں کی تعداد 72,000 سے زیادہ ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ ہزاروں ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، بشمول غزہ کے اُس نصف کے جو اب اسرائیل کے زیرِ قبضہ ہے۔اس تحقیق کے ماہرین نے کہا ہےکہ ان کے نتائج یہ اشارہ دیتے ہیں کہ انتہائی حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے محکمہ کے اعداد و شمار محتاط انداز میں پیش کیے گئے ہوسکتے ہیں۔



