منصوبے اور خوشبودار چاول کو بڑا اعزاز
کولکاتہ :مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن نے ریاستی حکومت کے انوکھے “مٹی کی تخلیق” زرعی منصوبے اور روایتی خوشبودار چاول کی اقسام گوبندبھوگ، تولیپنجی اور کنکچور کو بین الاقوامی سطح پر “خوراک اور ثقافتی ورثہ” کا درجہ دیتے ہوئے باضابطہ تسلیم کیا ہے، وزیر اعلیٰ نے یہ خوشخبری اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (ٹوئٹر) پر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز ریاست کے دیہی عوام خصوصاً کسانوں کی محنت، عزم اور زمین سے محبت کا ثمر ہے، یہ منفرد منصوبہ 2020 میں مغربی بنگال کے مغربی خطوں میں شروع کیا گیا تھا جہاں بنجر، پتھریلی اور صرف ایک فصل دینے والی زمین کو جدید سائنسی طریقوں، پانی کے ذخائر، تالابوں کی کھدائی، بارش کے پانی کے تحفظ اور آبپاشی کے نئے نظام کے ذریعے سال بھر زرخیز اور کثیر فصلی بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہ علاقے جہاں پہلے کاشت ممکن نہیں تھی اب سبزیوں، پھلوں اور مختلف فصلوں کی پیداوار کے مراکز بن چکے ہیں، اس منصوبے سے نہ صرف زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا بلکہ لاکھوں مقامی افراد کو روزگار ملا، دیہی معیشت مضبوط ہوئی، کسانوں کی آمدنی میں کئی گنا اضافہ ہوا اور نقل مکانی میں بھی کمی آئی، اس عالمی اعتراف کا سرٹیفکیٹ ریاستی سیکریٹریٹ نوانو موصول ہو چکا ہے جسے وزیر اعلیٰ نے ریاست کے عوام کے ساتھ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کامیابی صرف ایک منصوبے کی نہیں بلکہ قدرتی وسائل کے تحفظ، حیاتیاتی تنوع کے فروغ، روایتی بیجوں کی حفاظت اور ثقافتی خوراکی ورثے کو زندہ رکھنے کی اجتماعی کوششوں کی عالمی سطح پر توثیق ہے، انہوں نے مزید کہا کہ حکومت آئندہ بھی ایسے ترقیاتی اقدامات جاری رکھے گی جو ماحول دوست زراعت، پائیدار ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کو یقینی بنائیں تاکہ ریاست عالمی سطح پر زرعی ماڈل کے طور پر اپنی شناخت مزید مضبوط کر سکے۔



