ٹرمپ امن کونسل کا پہلا سیشن طلب کرنے کے خواہاں
واشنگٹن، 8 فروری (یواین آئی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں ماہ دارالحکومت واشنگٹن میں ایک اہم اجلاس منعقد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا مقصد محصور پٹی غزہ کی بحالی اور ترقی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا ہے۔ اس اجلاس میں اُن عالمی رہنماؤں کی شرکت متوقع ہے جنہوں نے جنوری میں امن کونسل میں شامل ہونے کی دعوت قبول کی تھی۔ٹرمپ انتظامیہ کے دو عہدیداروں کے مطابق مجوزہ اجلاس 19 فروری کو متوقع ہے، جہاں نہ صرف مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے بلکہ غزہ کے لیے قائم خصوصی ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان بھی موجود ہوں گے۔ یہ کمیٹی علاقے کے انتظامی امور، سکیورٹی اور تعمیرِ نو کے منصوبوں کی نگرانی کرے گی۔ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ انتظامیہ کو امید ہے کہ اجلاس میں نمایاں عالمی شرکت دیکھنے کو ملے گی۔ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کی رات شرکاء کو باضابطہ دعوت نامے ارسال کر دیے گئے۔ دعوت نامے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اجلاس یونائیٹڈ سٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پیس میں ہوگا، جسے موجودہ انتظامیہ ڈونلڈ جے ٹرمپ امریکن انسٹی ٹیوٹ آف پیس کے نام سے بھی پکار رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس غیر منافع بخش تحقیقی ادارے کی سابق قیادت کے ساتھ اس وقت ایک قانونی تنازعہ جاری ہے۔ابتدائی مرحلے میں اس نئی کونسل کو اسرائیل اور حماس کے درمیان غزہ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ممکنہ فریم ورک سمجھا جا رہا تھا، تاہم بعد میں اس کے دائرہ کار میں تبدیلیاں کی گئیں جن سے عالمی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے ٹرمپ کے وسیع تر وژن کی جھلک ملتی ہے۔مبصرین کے مطابق یہ اقدام دوسری عالمی جنگ کے بعد بننے والے بین الاقوامی نظام کی ازسرِنو تشکیل کی کوشش معلوم ہوتا ہے اور اسے اقوام متحدہ کے کردار سے ہٹ کر ایک متبادل راستے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔دوسری جانب یورپ اور چند دیگر خطوں میں امریکہ کے بعض اہم اتحادیوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے اس کونسل کا حصہ بننے سے گریز کیا ہے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ اقدام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے متوازی کسی نئے فورم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔



