نیو اسٹارٹ معاہدہ ختم: امریکہ اور روس کے جوہری ہتھیاروں پر اب کوئی حد بندی نہیں
نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) 5 فروری کی آدھی رات کو نیو اسٹارٹ معاہدے کی میعاد ختم ہونا بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین لمحہ ہے، جس سے سرد جنگ کے بعد پہلی بار امریکہ اور روس کے درمیان جوہری ہتھیاروں کی بے قابو دوڑ کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا کہ ‘نصف صدی سے زائد عرصے میں پہلی بار ہم ایسی دنیا کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں روسی فیڈریشن اور امریکہ کے اسٹریٹجک جوہری ذخائر پر کوئی حد بندی نافذ نہیں ہے۔ یہ وہ دو ممالک ہیں، جن کے پاس دنیا کے جوہری ہتھیاروں کا بڑا حصہ موجود ہے۔پچاس برس سے زیادہ عرصے میں پہلی بار دنیا کے دو جوہری سپر پاورز کے پاس موجود طویل فاصلے تک مار کرنے والے جوہری ہتھیاروں پر کوئی سرکاری حد نہیں رہی۔ ایسی صورتحال 1972 کے بعد نہیں دیکھی گئی تھی، جب امریکی صدر رچرڈ نکسن اور سوویت رہنما لیوند بریژنیف نے ماسکو میں تاریخی اسلحہ کنٹرول معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اسلحہ پرکنٹرول کی دہائیوں پر محیط کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر گوتیرس نے کہا کہ ‘سرد جنگ کے دوران اور اس کے بعد ان حکومتوں کے درمیان جوہری اسلحہ کنٹرول نے تباہی کو روکنے میں مدد دی۔ اس سے استحکام قائم ہوا اور جب اسے دیگر اقدامات کے ساتھ جوڑا گیا تو اس نے تباہ کن غلط فہمیوں کو روکا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس نے قومی اسلحہ خانوں سے ہزاروں جوہری ہتھیاروں میں کمی کو ممکن بنایا۔سکریٹری جنرل نے امریکہ اور روس سے سفارتی مذاکرات کی اپیل کی، تاکہ دنیا میں بغیر کسی روک ٹوک کے دوبارہ جوہری پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔ غیریقینی کے اس دور میں بھی ہمیں امید تلاش کرنی چاہیے۔ یہ تیزی سے بدلتے ماحول میں ایک نئے اور مؤثر اسلحہ کنٹرول نظام کو بحال کرنے اور تشکیل دینے کا موقع ہے۔ روس نے کچھ عرصے کے لیے موجودہ صورتحال کو برقرار رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن معاہدے کے خاتمے کے بعد ایک اور سال تک ‘نیو اسٹارٹ، کی حدود پر عمل کرنے کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ امریکہ بھی ایسا کرے۔ روس کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے 29 جنوری کو کہا تھا کہ امریکہ نے ابھی تک اس تجویز پر کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ آخر میں مسٹر گوتیرس نے کہا کہ دنیا اب روسی جمہوریہ اور امریکہ سے توقع کر رہی ہے کہ وہ اپنی باتوں کو عملی اقدامات میں بدلیں۔مسٹر گوتیرس نے مزید کہا کہ میں دونوں ممالک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ بلا تاخیر مذاکرات کی میز پر واپس آئیں اور ایسے فریم ورک پر متفق ہوں، جو حدود کو بحال کرے، خطرات کو کم کرے اور ہماری مشترکہ سلامتی کو مضبوط بنائے۔
سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے امریکہ اور روس پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد سے جلد ایک نئے جوہری معاہدے پر دستخط کرلیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاہدہ ایسے وقت میں ختم ہو رہا ہے جسے بین الاقوامی امن و سلامتی کیلیے نہایت تشویش ناک کہا جا سکتا ہے۔دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کہتے ہیں کہ چین کی شمولیت کے بغیر کوئی بھی اسلحہ کنٹرول فریم ورک ادھورا ہے۔واضح رہے کہ نیو اسٹارٹ سرد جنگ کے بعد امریکہ اور روس کے درمیان جوہری اسلحہ کنٹرول کے سلسلے کی آخری کڑی ہے۔ معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں نصف صدی بعد دونوں طاقتیں ایٹمی پابندیوں سے آزاد ہو جائیں گی۔دونوں ملکوں کے پاس دنیا کے 87 فیصد ایٹمی ہتھیار ہیں۔ چین بھی 2030 تک اپنے وار ہیڈز کی تعداد 1000 تک لے جانے کی تیاری کر رہا ہے۔



