غزہ، 2 فروری (یو این آئی) اسرائیلی حکام نے پیر کو کہا کہ غزہ کا رفح عبوری مقام مصر کے لیے دوبارہ کھل گیا ہے اور فلسطینی مریض دونوں سمتوں میں وہاں سے آجا سکتے ہیں۔مصری میڈیا نے ان رپورٹس کی تصدیق کی اور کہا کہ ہر روز ہر سمت میں 50 افراد کو عبور کی اجازت دی جائے گی۔غزہ میں فلسطینیوں نے پیر کو بے چینی کے ساتھ رفح گزرگاہ کے دوبارہ کھُلنے کا انتظار کیا، جب کہ اسرائیل نے اس اہم راستے پر آپریشنز جزوی طور پر دوبارہ شروع کیے ہیں ۔یہ گزرگاہ اتوار کو پہلے سخت پابندیوں کے ساتھ ایک تجرباتی مرحلے میں کھولی گئی جو امدادی اداروں کی مہینوں کی اپیلوں اور بین الاقوامی دباوَ کے بعد ممکن ہوئی ہے۔اسرائیلی سرکاری نشریاتی ادارے کان نے بتایا کہ پیر کو تقریباً 150 افراد کے غزہ سے مصر جانے کی توقع تھی جن میں تقریباً 50 مریض شامل تھے۔غزہ کی وزارتِ صحت نے کہا کہ فی الوقت تقریباً 200 مریض سفر کی اجازت کے منتظر ہیں۔محمد ناصر نے کہا کہ رفح گزرگاہ زندگی کی رسی ہے “مجھے اپنی ٹانگ کے لیے ایسی سرجری کی ضرورت ہے جو غزہ میں دستیاب نہیں مگر بیرونِ ملک کی جاسکتی ہے۔رفح واحد عبوری راستہ ہے جو اسرائیل سے نہیں گزرتا اور طویل عرصے سے انسانی امداد کا اہم راستہ رہا ہے۔ اسے مئی 2024 میں اسرائیلی فورسز کے قبضے کے بعد بند رکھا گیا تھا۔امدادی گروپ کہتے ہیں کہ 10 اکتوبر سے نافذ ہونے والی جنگ بندی کے باوجود غزہ کی صورتحال اب بھی تشویشناک ہے۔قاہرہ نیوز نے رپورٹ کیا کہ گزرگاہ چوبیس گھنٹے کھلی رہے گی اور مصری ہسپتال غزہ کے مریضوں کو وصول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
دریں اثنا ،گزرگاہ کے دوبارہ کھلنے کے باوجود اسرائیلی ہلاکتیں جاری رہیں۔غزہ کی سول ڈیفنس نے بتایا کہ اسرائیلی حملوں میں ہفتہ کو کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے رفح میں ایک سرنگ سے نکلنے والے جنگجووں کے بعد اہداف پر حملے کیے البتہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق مشکل ہے کیونکہ تل ابیب نے محاصرہ شدہ علاقے میں غیرجانبدار مبصرین کے داخلے کی اجازت مستقل طور پر نہیں دی۔اتوار کو اسرائیل نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ ڈاکٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (MSF) کی غزہ میں انسانی خدمات کو ختم کر رہا ہے۔
اسرائیل نے غزہ کے مریضوں کے لیے رفح کراسنگ کھول دی
مقالات ذات صلة



