آسام کے تین سکیا میں منعقدہ آدیواسی مہاسبھا سے خطاب کے دوران وزیراعلیٰ ہیمنت کا دو ٹوک بیان
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، یکم فروری :۔ آسام کے آئندہ اسمبلی انتخابات میں جھارکھنڈ مکتی مورچہ (جے ایم ایم) کی اہم شرکت کا عندیہ جھارکھنڈ کے وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے دیا ہے۔ اتوار کو آسام کے تینسکیا میں منعقدہ آدیواسی مہا سبھا میں شرکت کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ اگر ضرورت پڑی تو جھارکھنڈ کے آدیواسی آسام کے آدیواسیوں کی مدد کے لیے آگے آئیں گے۔وزیراعلیٰ ہیمنت سورین نے آدیواسیوں کے حقوق کے دفاع میں اپنی آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ آدیواسی معاشرہ خودمختار ہے اور اگر انہیں بار بار مجبور کیا گیا تو وہ دوبارہ جدوجہد کے راستے پر قدم رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آسام کے آدیواسیوں کو مدد کی ضرورت ہوئی، تو جھارکھنڈ کے آدیواسی ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ اس بیان پر ہزاروں آدیواسی طلباء اور کمیونٹی کے افراد نے تالیاں بجا کر اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
آدیواسیوں کے خلاف سازشوں کا ذکر
ہیمنت سورین نے کہا کہ آسام سمیت ملک کے مختلف حصوں میں آدیواسیوں کے ساتھ ہونے والے مظالم نے ان کے دلوں میں گہری دکھ بھری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آدیواسیوں کو معاشی، سماجی اور ذہنی طور پر کمزور دکھانے کی سازشیں کی جاتی رہی ہیں، جس سے سامراجی ذہنیت والے لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے جھارکھنڈ تحریک کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب دشوم گورو شبو سورین نے الگ ریاست کی بات کی تو آدیواسیوں کا مذاق اڑایا گیا، مگر 2000 میں جھارکھنڈ بننے کے بعد سچائی سب کے سامنے آ گئی۔
جھارکھنڈ کی حالت زار اور حکومتی اقدامات
وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک جھارکھنڈ مخالف طاقتیں اقتدار میں رہیں، اس ریاست کی حالت خراب رہی۔ لوگ بھوک سے مر رہے تھے، اور حکومت صرف تماشا دیکھ رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایسی حالت میں انہوں نے جھارکھنڈ کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت سنبھالی اور لوگوں کے درمیان جا کر انہیں بیدار کیا۔ انہوں نے 2019 کے انتخابات اور اس کے بعد کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے ای ڈی اور سی بی آئی کا غلط استعمال کیا، مگر عوام کی حمایت سے تمام سازشیں ناکام ہو گئیں۔
چائے صنعت اور آدیواسیوں کا استحصال
وزیراعلیٰ نے آسام کی چائے صنعت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ صنعت آدیواسیوں کے خون پسینے سے چلتی ہے، مگر وہی آدیواسی آج معاشی طور پر پس پشت ہیں اور انہیں مناسب اجرت نہیں ملتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جو لوگ آدیواسیوں کے حامی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، وہ نہیں چاہتے کہ آدیواسی معاشرہ مضبوط ہو۔ کیونکہ اگر آدیواسی، دلت اور پسماندہ طبقہ مضبوط ہو جاتا ہے تو وہ اپنے حقوق کی بات کریں گے اور سامراجی نظام سے سوال کریں گے۔
آدیواسیوں کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کی ضرورت
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آج کل ملک کی آئینی ادارے حکومت کے اشاروں پر کام کر رہے ہیں اور عوام سے ان کے ووٹ کا حق چھینا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری اور استحصال میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس حالات میں آدیواسیوں کو سیاسی جوابدہی کے لیے متحد ہو کر جواب دینا ہوگا۔انہوں نے جھارکھنڈ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ریاست نے ملک کو بہت کچھ دیا ہے اور اب وقت آ چکا ہے کہ اس ریاست کو اس کے وسائل کا صحیح معاوضہ ملے۔ وزیراعلیٰ نے خواتین کو خود کفیل بنانے کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج لاکھوں خواتین اپنے پیروں پر کھڑی ہو رہی ہیں، جو ریاست کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔



