بڑے منصوبوں کے اعلان پر ترنمول اور بی جے پی آمنے سامنے
کولکاتہ:اتوار کو پیش کئے گئے مرکزی بجٹ نے مغربی بنگال کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ آئندہ اسمبلی انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ میں ریاست کے لیے کئی بڑے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کا اعلان کیا گیا ہے، جس پر حکمراں ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) آمنے سامنے آ گئی ہیں۔وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی جانب سے پیش کئے گئے بجٹ میں مغربی بنگال کے لیے ڈانکونی سے گجرات کے سورت تک وقف شدہ مال بردار کوریڈور، درگاپور کو مرکز بنا کر ایسٹ کوسٹ انڈسٹریل کوریڈور کی ترقی، اور پوروودیا خطے کے تحت پانچ ریاستوں میں پانچ سیاحتی مراکز کے قیام کی تجویز شامل ہے۔ بی جے پی ان اعلانات کو مشرقی ہندوستان میں ترقیاتی سیاست کو مضبوط کرنے کی سمت ایک بڑا قدم قرار دے رہی ہے۔ڈانکونی سورت فریٹ کوریڈور کو ماحول دوست نقل و حمل اور لاجسٹکس کی لاگت کم کرنے کے منصوبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے، جسے بنگال کے لیے سیاسی طور پر نہایت اہم وعدہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، اندرونِ ملک آبی راستوں اور مربوط راہداریوں کے ذریعے مال برداری کو فروغ دینے کی بات بھی بجٹ میں کہی گئی ہے، جس سے صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ بجٹ میں سیاحت کے فروغ اور پوروودیا اسکیم کے تحت ریاستوں میں 4000 ای-بسوں کی فراہمی کی تجویز بھی شامل ہے۔تاہم، ترنمول کانگریس نے ان اعلانات کو محض انتخابی حربہ قرار دیتے ہوئے شدید اعتراض کیا ہے۔ پارٹی کا الزام ہے کہ مرکزی حکومت پرانے اور رکے ہوئے منصوبوں کو نئے فائدے کے طور پر پیش کر رہی ہے اور حقیقت میں ریاست کو اس کا واجب حق نہیں دیا جا رہا۔ترنمول کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری اور رکنِ پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ مرکز صرف سرخیاں بنانے کے لیے اعلانات کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 2021 کے اسمبلی انتخابات کے بعد سے بنگال میں منریگا، پردھان منتری آواس یوجنا اور دیہی سڑک اسکیم جیسی اہم مرکزی اسکیموں کے فنڈز روکے گئے ہیں۔ ان کے مطابق، انفراسٹرکچر کے بڑے اعلانات زمینی حقیقت کو نہیں بدل سکتے۔دوسری جانب، بی جے پی رہنما راہول سنہا نے بجٹ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں بنگال کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے، جس سے ریاست کی معیشت مضبوط ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ بہتر رابطہ، صنعتی کوریڈور اور بڑے منصوبے روزگار کے مواقع پیدا کریں گے اور سرمایہ کاری کو راغب کریں گے، خاص طور پر شمالی اور مغربی بنگال میں۔سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ بنگال پر بجٹ میں خاص زور بی جے پی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ ان کے مطابق، جب کسی بڑی ریاست میں اسمبلی انتخابات قریب ہوتے ہیں تو مرکزی بجٹ میں اس ریاست کو غیر معمولی توجہ دی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وفاقی نظام میں بجٹ محض معاشی دستاویز نہیں بلکہ ایک طاقتور سیاسی ہتھیار بھی ہے، جس کے ذریعے ووٹروں کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ بجٹ کے یہ اعلانات واقعی بنگال کے عوام کا اعتماد جیت پاتے ہیں یا ووٹر انہیں محض انتخابی وعدے سمجھ کر مسترد کر دیتے ہیں۔



