تہران،یکم فروری(ہ س)۔ایران کے صدر مسعود بزشکیان نے زور دیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ کوئی جنگ ایران کے حق میں ہے، نہ امریکہ کے، نہ خطے کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے یہ بیان ایک ایسے وقت میں دیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تہران پر فوجی حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔بزشکیان نے مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی سے ٹیلیفون پر بات کرتیہوئے کہا کہ “ایران کبھی بھی جنگ کی تلاش میں نہیں رہے گا اور اسے یقین ہے کہ جنگ ایران، امریکہ اور خطے کے مفاد میں نہیں ہے”۔مصر کے صدر دفتر کے ترجمان محمد الشناوی نے کہا کہ اس ٹیلیفونک رابطے میں ایران کے جوہری معاملے پر بات ہوئی اور صدر السیسی نے اپنے خطے میں بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کی “۔ انہوں نے زور دیا کہ تصادم سے بچنا ضروری ہے اور فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہونا چاہیے۔سفارتی حل ہی بحران حل کرنے کا واحد اور بہترین راستہ ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مزید تناؤ اور عدم استحکام سے بچا جا سکے”۔انہوں نے مزید کہا کہ مصر اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا تاکہ امریکہ اور ایران دوبارہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ ایران کے جوہری معاملے کا پرامن اور جامع حل نکلے، جو علاقائی اور عالمی استحکام کو فروغ دے۔ یہ بات السیسی نے حال ہی میں ڈیووس فورم کے دوران ٹرمپ سے ملاقات میں بھی بیان کی تھی۔اسی تناظر میں مصر اس بات کا خواہاں ہے کہ متعلقہ فریقین مذاکرات کی اہمیت کو سمجھیں اور اختلافات ختم کر کے جامع حل تک پہنچیں۔ قاہرہ ہر اس کوشش کی حمایت کرتا ہے جو مذاکرات کیلیے کی جائے۔مصری ایوان صدر کے ترجمان الشناوی کے مطابق ایرانی صدر نے بھی مصر کے مثبت کردار کی تعریف کی، جو تناؤ کم کرنے اور خطے میں سکیورٹی و استحکام قائم رکھنے میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مصر کے ساتھ سیاسی مشاورت اور ہم آہنگی بڑھانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا، تاکہ علاقائی استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔ہفتے کے روز ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایران ہم سے بات کر رہا ہے”۔ انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا کہ تہران “ہم سے بات کر رہا ہے، دیکھیں گے کہ ہم کچھ کر سکتے ہیں یا نہیں، ورنہ دیکھیں گے کیا ہوتا ہے”۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا ایک بڑا بحری بیڑا وہاں جا رہا ہے۔وہ (ایرانی)مذاکرات کر رہے ہیں”۔ ادھر ایران کی اعلیٰ قومی سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے بتایا ہے کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ایک پوسٹ میں لکھا کہ “مصنوعی میڈیا جنگ کی فضا کے برعکس، مذاکرات کے ڈھانچے کی تیاری جاری ہے”، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔دوسری جانب امریکی حکام نے ایران کے ساتھ سفارتی حل کے امکانات کو کم تر ظاہر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ایرانیوں نے امریکی شرائط قبول کرنے کی حقیقی آمادگی نہیں دکھائی”۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتوں میں امریکی صدر نے ایران پر حملے کی دھمکیاں بڑھا دی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی کو مضبوط کیا ہے۔ اسی سلسلے میں امریکہ نے ایران کیخلاف ممکنہ کارروائی کے لیے ابراہم لنکن ایئر کرافٹ کیریئر بھی مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا ہے۔
دوسری جانب تہران نے بھی اپنی وارننگ کی سطح بلند کر دی ہے اور کسی بھی امریکی حملے کے فوری اور سخت جواب کی دھمکی دی ہے۔
جنگ ایران، امریکہ اور خطے سمیت کسی کے مفاد میں نہیں: ایرانی صدر کا انتباہ
مقالات ذات صلة



