امریکی ایجنسی کے روکے گئے ٹیلیگرام میں غزہ سے متعلق ہولناک انکشاف
واشنگٹن، 31 جنوری (یو این آئی) یو ایس ایڈ کے عملے نے 2024 کے اوائل میں بائیڈن انتظامیہ کو ایک ٹیلیگرام بھیج کر بتایا تھا کہ انھوں نے غزہ کی سڑکوں پر انسانی رانوں کی ہڈیاں اور بکھرے دیگر انسانی ڈھانچے دیکھے اور جگہ جگہ گاڑیوں میں لاشیں پڑی ملیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے عملے نے سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام کو متنبہ کیا تھا، کہ شمالی غزہ خوراک اور طبی امداد کی شدید قلت کے باعث ایک تباہ کن بنجر زمین میں تبدیل ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔غزہ کی پٹی میں اڑھائی سال سے جاری اسرائیلی جارحیت کی دل دہلا دینے والی تفصیلات اب بھی منظر عام پر آ رہی ہیں، غزہ میں اسرائیل کی پیش قدمی کے تین ماہ بعد ایک اندرونی مراسلے میں یو ایس ایڈ نے ان ہولناک مناظر کی تفصیلات بیان کی تھیں۔غزہ میں حقائق جاننے کے لیے مشن پر آنے والے عملے نے انسانی ڈھانچے دیکھنے کے بعد بتایا کہ غزہ میں انسانی ضروریات، خاص طور پر خوراک اور پینے کے صاف پانی کی شدید ترین قلت ہے، لیکن اسرائیل میں متعین امریکی سفیر جیک لیو اور ان کی نائب سٹیفنی ہالیٹ نے اس ٹیلیگرام یا مراسلے کو امریکی حکومت کے اندر بڑے پیمانے پر نشر ہونے سے روک دیا کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ اس میں توازن کی کمی ہے اور روئٹرز پہلا ادارہ تھا جس نے اس مراسلے اور اسے روکنے کی وجوہ پر رپورٹ شائع کی۔روئٹرز کے مطابق تین سابق امریکی عہدیداروں نے واضح کیا کہ ان مراسلوں میں درج تفصیلات غیر معمولی طور پر ہولناک تھیں اور اگر یہ بائیڈن انتظامیہ میں گردش کرتیں تو اعلیٰ حکام کی توجہ حاصل کر لیتیں اور اس سے بائیڈن کے اس ماہ جاری کردہ قومی سلامتی کے میمورنڈم کی جانچ پڑتال مزید سخت ہو جاتی، جس میں امریکی انٹیلیجنس اور ہتھیاروں کی فراہمی کو اسرائیل کی بین الاقوامی قانون کی پاسداری سے مشروط کیا گیا تھا۔یاد رہے یروشلم میں امریکی سفارت خانہ غزہ سے متعلق زیادہ تر مراسلوں کی ترتیب اور تقسیم کی نگرانی کر رہا تھا۔ ان میں وہ مراسلے بھی شامل تھے جو خطے کے دیگر سفارت خانوں سے آ رہے تھے۔ ایک سابق اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ جیک لیو اور ہالیٹ اکثر یو ایس ایڈ کی قیادت کو یہ کہہ کر ٹال دیتے تھے کہ ان مراسلوں میں ایسی معلومات ہیں جو پہلے ہی میڈیا میں بڑے پیمانے پر شائع ہو چکی ہیں۔میڈیا کے مطابق سابق وزیر خارجہ انٹونی بلنکن اور بائیڈن کے نمائندوں نے اس بات پر تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا کہ یہ مراسلے امریکی حکومت کی اعلیٰ قیادت تک کیوں نہیں پہنچے۔



