ایران جوہری ہتھیار سے دست برداری کیلئے تیار: عراقچی
واشنگٹن،31جنوری(ہ س)۔واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور خطے میں امریکی بحری بیڑے کی موجودگی کے دوران، ایران نے ایک بار پھر امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے اپنی آمادگی کا اعادہ کیا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایک ایسے معاہدے کو اپنانے کے لیے تیار ہے جو جوہری ہتھیاروں کے حصول کی عدم موجودگی کی ضمانت دے اور (ایران پر عائد) پابندیاں ختم کرے۔ اس کے علاوہ انہوں نے آج ہفتے کے روز ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں مزید کہا کہ ان کا ملک سکیورٹی اور استحکام کے تحفظ کے لیے خطے کے ممالک کے ساتھ رابطے کے لیے تیار ہے۔ گذشتہ روز جمعے کو استنبول کا دورہ کرنے والے عراقچی نے اس بات پر زور دیا کہ تہران خطے میں امن و استحکام کے لیے ترکیہ کی کوششوں کا خیر مقدم کرتا ہے۔ایرانی وزیر کا یہ بھی خیال تھا کہ فی الحال امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے کوئی سنجیدہ بنیاد موجود نہیں ہے۔ انہوں نے’سی این این ترک‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ تہران مکالمے اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ انہوں نے کسی بھی حقیقی مذاکرات سے پہلے دھمکیوں اور دباؤ کی فضا کو ختم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔اسی طرح انہوں نے اپنے ترک ہم منصب حاقان فیدان کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ ایران امریکہ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر جوہری مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اس شرط کے ساتھ کہ مذاکرات منصفانہ ہوں۔ تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ ان کے ملک کی دفاعی اور میزائل صلاحیتیں ناقابلِ بحث ہیں۔یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں غیر معمولی تناؤ پایا جاتا ہے، جبکہ ترکیہ دیگر عرب ممالک کے ساتھ مل کر صورت حال کو پْر امن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گذشتہ روز جمعہ کی شام دیے گئے اس بیان کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے بارہا فوجی آپشن کی دھمکی دینے کے بعد کہا کہ انہوں نے ایرانی حکام کو مذاکرات کے لیے مہلت دی ہے۔ البتہ امریکی صدر نے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔ یہ منظر نامہ کسی حد تک گذشتہ برس کے موسم گرما میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ہونے والے امریکی حملوں سے قبل کی صورت حال سے مشابہت رکھتا ہے۔



