Sunday, January 25, 2026
ہومNationalتجارتی معاہدے سے پہلے یورپی یونین نے بھارت کو بڑا دھچکا دیا

تجارتی معاہدے سے پہلے یورپی یونین نے بھارت کو بڑا دھچکا دیا

جی ایس پی واپس لینے کے بعد ٹیرف میں 20 فیصد کا اضافہ، برآمدات کی مسابقت متاثر

نئی دہلی، 24 جنوری:۔ (ایجنسی)ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدہ ان دنوں سرخیوں میں ہے۔ توقع ہے کہ 27 جنوری تک اس معاہدے کو حتمی شکل دے دی جائے گی جس کا دونوں ممالک طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں۔ حالانکہ اس دوران ایک اور بڑی خبر سامنے آ رہی ہے جو ہندوستان کے لیے بڑا جھٹکا مانی جارہی ہے۔ تازہ خبر کے مطابق یورپی یونین نے کچھ ہندوستانی اشیاء پر برآمدی فوائد روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کے تحت یورپی یونین (ای یو) کو ہونے والی زیادہ تر ہندوستانی برآمدات پر محصولات میں 20 فیصد اضافہ ہو جائے گا کیونکہ ای یو یکم جنوری سے نافذ العمل جنرلائزڈ سسٹم آف پرفرنسز (جی ایس پی) کے تحت دی گئی چھوٹ واپس لے رہا ہے۔

جی ایس پی کے خاتمے سے ایف ٹی اے میں تاخیر کا خوف
کہا جارہا ہے کہ ہندوستان پر یہ اثر زیادہ دیر تک رہنے والا ہے کیونکہ یورپی یونین کے ساتھ ایف ٹی اے پر دستخط ہوتے ہی جی ایس پی ،ایف ٹی اے کی جگہ لے لے گا۔ مگر یہاں تشویش کی بات یہ ہے کہ ایف ٹی اے کے فوائد ملنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں جبکہ جی ایس پی کی واپسی کا حکم 25 ستمبر کو جاری کیا گیا تھا۔ یورپی یونین نے اس سال یکم جنوری سے تقریباً 87 فیصد ہندوستانی اشیا پر جی ایس پی ٹیرف کی ترجیحات واپس لے لی ہیں، جس سے اب زیادہ تر سامانوں کو پورے ایم ایف این ڈیوٹی ریٹ پر انٹری کرنا ہوگی۔
صنعتی برآمدات پر بڑا اثر
اس دوران فیڈریشن آف انڈین ایکسپورٹ آرگائزیشنز (ایف آئی ای او) کے سی ای او اور ڈائریکٹر جنرل اجے سہائے نے کہا کہ جی ایس پی کی واپسی نے واضح طور پر یورپی یونین تک پہنچنے والے ہندوستانی سامان کو بنگلہ دیش اور ویت نام جیسے سپلائرز کے مقابلے میں کم مسابقتی بنا دیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کا صنعتی برآمدات پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہے جس میں معدنیات، کیمیکل، پلاسٹک، لوہا، اسٹیل، مشینری اور الیکٹریکل سامان شامل ہیں جو ای یو کو ہندوستان کے بھیجی جانے والی ترسیل کا ایک بڑا حصہ ہے اور اب مکمل طور پر ایم ایف این ٹیرف کے دائرے میں آگئے ہیں۔
جی ایس پی کیا ہے اور فائدہ کتنا بچا؟
بتادیں کہ جی ایس پی ایک اسکیم ہے جس میں ترقی یافتہ ممالک اپنی برآمدات کو فروغ دینے کے لیے ترقی پذیر ممالک سے منتخب اشیا پر کم یا صفر ٹیرف لگاتے ہیں۔ وزارت تجارت اور صنعت کا کہنا ہے کہ 2016 سے یورپی یونین ہندوستانی اشیاء کو جی ایس پی فوائد سے بتدریج خارج کرتی آرہی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ اب اس اسکیم کے تحت زرعی مصنوعات اور لیدر سمیت 13 فیصد ہندوستانی برآمدات کو ہی فائدہ ملے گا۔ مالی سال 2025 سے ہندوستان سے ای یو کو بھیجے جانے والے تقریباً 47 فیصد (35.6 ارب ڈالر) سامان ابھی بھی جی ایس پی فوائد کے دائرے میں آتے ہیں۔ جبکہ ایکسپورٹ کا 53 فیصد (40.2 ارب ڈالر) ابھی بھی جی ایس پی کے تحت آتا ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات