بی جے پی کی ‘ڈیجیٹل وار‘ اور ووٹوں کی تقسیم کے خلاف متحد ہونے کا عزم
جدید بھارت نیوز سروس
نئی دہلی/رانچی، 24 جنوری: جھارکھنڈ کے وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے آج نئی دہلی میں آل انڈیا اقلیتی کانگریس کے قومی صدر اور رکن پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ انتہائی پُرتپاک اور دوستانہ ماحول میں ہونے والی اس ملاقات کے دوران ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال اور خاص طور پر اقلیتی معاشرے کو درپیش چیلنجز پر طویل اور سنجیدہ تبادلہ خیال کیا گیا۔
سوشل میڈیا: بی جے پی کا نیا ہتھیار
دورانِ گفتگو دونوں رہنماؤں نے اس تشویش کا اظہار کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی اب روایتی طریقوں کے بجائے سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں پر حملہ کر رہی ہے۔ ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ سوشل میڈیا بی جے پی کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے، جس کے ذریعے نہ صرف بنیادی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے بلکہ ہماری سوچ، شعور اور ضمیر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی چاہتی ہے کہ معاشرے میں انتہا پسند لیڈر ابھریں تاکہ بھائی چارے کو نقصان پہنچایا جا سکے۔
پانچ ریاستوں کے حالات کا جائزہ
ملاقات میں اتر پردیش، بہار، راجستھان، مدھیہ پردیش اور چھتیس گڑھ سمیت جھارکھنڈ میں اقلیتوں کی حالتِ زار پر تفصیلی غور کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے فیصلہ کیا کہ وہ مل کر ان ریاستوں کے کونے کونے تک پہنچیں گے اور کانگریس کے سیکولر نظریے کو عام کریں گے تاکہ اقلیتی معاشرہ دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔
‘بی جے پی کی بی-ٹیم سے ہوشیار رہنے کی اپیل
ڈاکٹر عرفان انصاری اور عمران پرتاپ گڑھی نے مشترکہ طور پر ملک بھر کے مسلمانوں اور دانشوروں سے اپیل کی کہ وہ ان نام نہاد لیڈروں سے ہوشیار رہیں جو بی جے پی کے اشارے پر کام کر کے مسلم ووٹوں کو تقسیم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے لوگ دانستہ طور پر تذبذب پھیلا رہے ہیں تاکہ بی جے پی کو بالواسطہ فائدہ پہنچایا جا سکے، ایسے عناصر کو سیاسی طور پر مسترد کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
کانگریس: سب کی شمولیت کی ضمانت
ڈاکٹر عرفان انصاری نے زور دے کر کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ قبائلی، دلت، او بی سی، برہمن اور مسلمانوں سمیت تمام طبقات کو ان کے آئینی حقوق دلائے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ اگرچہ پارٹی ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے، لیکن بہت جلد کانگریس ملک کی سیاست میں اپنا اعلیٰ مقام دوبارہ حاصل کرے گی۔آخر میں ڈاکٹر عرفان انصاری نے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا “پارٹی نے مجھے جو ذمہ داری دی ہے، میں پوری ایمانداری سے کانگریسی نظریے اور پالیسیوں کو جن جن تک پہنچاؤں گا اور جھارکھنڈ سمیت پورے ملک میں کانگریس کو مضبوط کرنے کے لیے دن رات کام کروں گا۔”



