اوسلو ۔ 24؍ جنوری۔ ایم این این۔ ناروے کی معروف ادبی و انسانی حقوق تنظیم پین ناروے نے پاکستانی انسانی حقوق وکیل ایمان مزاری حاضر کی اسلام آباد میں مبینہ پرتشدد گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے قانون کی بالادستی اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ پین ناروے کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری حاضر کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے شوہر اور وکیل ہادی علی چٹھہ کے ہمراہ عدالت جا رہی تھیں۔ تنظیم کے مطابق پولیس نے گرفتاری کے دوران غیر ضروری طاقت کا استعمال کیا، گاڑی کے شیشے توڑے، وکلاء کو زبردستی باہر نکالا اور ایمان مزاری کو جسمانی طور پر گھسیٹ کر پولیس گاڑی میں ڈالا، جو ایک وکیل اور شہری کے وقار کے سراسر منافی ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ایمان مزاری حاضر پاکستان میں جبری گمشدگیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں، سیاسی کارکنوں کے خلاف کارروائیوں اور ریاستی اداروں پر تنقید سے متعلق مقدمات میں قانونی معاونت فراہم کرتی رہی ہیں، جس کے باعث وہ مسلسل دباؤ اور ہراسانی کا شکار رہی ہیں۔ پین ناروے کے مطابق ان کی گرفتاری ایک وسیع تر رجحان کا حصہ ہے، جس میں انسانی حقوق کے وکلاء اور ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے قانونی نظام کا استعمال کیا جا رہا ہے۔تنظیم نے پاکستانی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ایمان مزاری حاضر کو فوری قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، انہیں اپنے وکلاء اور اہل خانہ تک رسائی دی جائے، گرفتاری کے طریقہ کار کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ان کے خلاف عائد الزامات واپس لیے جائیں۔ پین ناروےنے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان کو اظہارِ رائے کی آزادی اور انسانی حقوق سے متعلق اپنے بین الاقوامی وعدوں کی پاسداری کرنی چاہیے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں اور وکلاء کے خلاف پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ عالمی برادری کیلئے تشویش کا باعث ہے، اور ایسے اقدامات ملک کے قانونی و جمہوری تشخص کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ناروے کی تنظیم نے پاکستانی انسانی حقوق وکیل ایمان مزاری کی گرفتاری کی شدید مذمت کی
مقالات ذات صلة



