نیو یارک 23 جنوری:(ایجنسی) جمعرات کے روز امریکہ با ضابطہ طور پر عالمی ادارہ صحت (WHO) سے الگ ہو گیا ہے۔ اس فیصلے کی وجہ تنظیم کی جانب سے کووڈ-19 کی وبا کے دوران ناقص حکمت عملی کو قرار دیا گیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارت سنبھالتے ہی ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اس انخلاء کا اعلان کیا تھا۔امریکی وزارتِ صحت اور خارجہ کے مطابق، اب امریکہ کا عالمی ادارہ صحت کے ساتھ تعلق انتہائی محدود رہے گا۔ حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ اب بطور “مبصر” بھی شرکت کا ارادہ نہیں رکھتا اور نہ مستقبل میں دوبارہ شمولیت کا کوئی منصوبہ ہے۔ امریکہ اب عالمی ادارہ صحت کے بجائے براہِ راست دیگر ممالک کے ساتھ مل کر صحت کے شعبے اور بیماریوں کی نگرانی پر کام کرے گا۔امریکی قانون کے تحت انخلاء سے ایک سال قبل نوٹس دینا اور تقریباً 26 کروڑ ڈالر کے واجبات ادا کرنا ضروری ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ خارجہ کے حکام نے رقم کی پیشگی ادائیگی کی شرط کو مسترد کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جنیوا میں تنظیم کے ہیڈ کوارٹر سے امریکی پرچم ہٹا دیا گیا ہے۔ امریکہ حالیہ ہفتوں میں اقوام متحدہ کے دیگر کئی اداروں سے بھی دست بردار ہو چکا ہے، جس سے عالمی سطح پر اقوام متحدہ کے کمزور ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ تیڈروس ادھانوم گیبریسوس سمیت متعدد ماہرین نے اس فیصلے پر نظرثانی کی اپیل کرتے ہوئے اسے امریکہ اور دنیا بھر کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق امریکہ نے سال 2024 اور 2025 کے واجبات بھی ادا نہیں کیے۔امریکہ عالمی ادارہ صحت کا سب سے بڑا مالی معاون تھا جو کل فنڈز کا 18 فی صد فراہم کرتا تھا۔ اس کے جانے سے تنظیم شدید مالی بحران کا شکار ہو گئی ہے، جس کے نتیجے میں انتظامی ٹیم آدھی رہ گئی ہے اور رواں سال کے وسط تک عملے کے ایک چوتھائی حصے کو فارغ کیے جانے کا خدشہ ہے۔ اگرچہ گذشتہ ایک سال کے دوران معلومات کا تبادلہ جاری رہا، مگر مستقبل میں اس تعاون کی نوعیت ابھی واضح نہیں ہے۔
امریکہ با ضابطہ طور پر عالمی ادارہ صحت سے علاحدہ ہو گیا
مقالات ذات صلة



