ڈنمارک سے گرین لینڈ حاصل کرنےکیلئے فوجی کارروائی کے امکانات رد
داوس، 22 جنوری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ آج ڈاوس میں اپنے نئے ‘بورڈ آف پیس، کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ وہ یوکرین کے رہنما سے ملاقات کریں گے اور گرین لینڈ پر فوجی حملہ نہیں کریں گے۔یہ اقدام اُن کے اس دعوے کو مضبوط کرنے کی کوشش ہے کہ وہ مصالحت کو ترجیح دیتے ہیں۔بدھ کو اچانک اعلان کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ وہ یورپ کے خلاف محصولات ختم کر تے ہوئے ڈنمارک سے گرین لینڈ حاصل کرنے کے لیے فوجی کارروائی کے امکانات کو رد کر رہے ہیں جس سے اجلاس میں پیدا ہونے والے بحران کو جزوی طور پر کم کرنے میں مدد ملی۔ڈاوس میں اپنے دوسرے دن ٹرمپ “بورڈ آف پیس” کو فروغ دینے کی کوشش کریں گے اور اس تنظیم کے چارٹر پر دستخط کرنے کی تقریب منعقد کریں گے۔اس نوزائیدہ بورڈ کی مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی فیس مقرر کی گئی ہے اور ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمیر پوتن، اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو اور ہنگری کے وزیر اعظم وِکٹر اوربان سمیت کئی رہنماؤں کو شمولیت کی دعوت دی ہے۔ٹرمپ نے بدھ کو مصری صدر عبد الفتاح السیسی سے ملاقات کے دوران کہا کہ میرے خیال میں یہ اب تک کا سب سے عظیم بورڈ ہے ۔ایک سینئر ٹرمپ انتظامیہ کے اہلکار نے صحافیوں کو بتایا کہ ابھی تک تقریباً 50 شرکا میں سے 35 عالمی رہنماؤں نے شرکت کی یقین دہانی کرائی ہے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ پوتن نے شامل ہونے کی منظوری دے دی ہے حالانکہ کریملن نے تاحال کہا ہے کہ وہ دعوت نامے کا مطالعہ کر رہا ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ وہ بورڈ آف پیس کے بعد یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی سے بات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ روس اور یوکرین اگر امن معاہدہ نہیں کریں گے تو وہ بیوقوف ہوں گے۔امریکی رہنما کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف ڈاوس سے ماسکو جائیں گے جہاں وہ ٹرمپ کے داماد جارڈ کشنر کے ساتھ جمعرات کو پوتن سے مذاکرات کریں گے۔دوسری طرف زیلنسکی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ٹرمپ کی گرینلینڈ پر قبضے کی کوشش روس کے حملے سے توجہ ہٹا سکتی ہے۔البتہ ٹرمپ نے گزشتہ شب نیٹو چیف مارک روٹے سے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے ایک مستقبل کے معاہدے کا فریم ورک طے کیا ہے اس لیے وہ یکم فروری سے یورپی اتحادیوں پر نافذ ہونے والے محصولات معاف کریں گے۔روٹے نے ڈاوس میں کہا کہ ملاقات بہت اچھی رہی لیکن گرین لینڈ کے معاملے میں اب بھی بہت کام باقی ہے”۔ٹرمپ زور دیتے ہیں کہ قدرتی وسائل سے مالا مال آرکٹک جزیرہ امریکی اور نیٹو کی سکیورٹی کے لیے روس اور چین کے خلاف اہم ہے۔



