Sunday, January 18, 2026
ہومWest Bengalمدھیامک ایڈمٹ کارڈ مسترد، ایس آئی آر پر نیا تنازعہ

مدھیامک ایڈمٹ کارڈ مسترد، ایس آئی آر پر نیا تنازعہ

الیکشن کمیشن کی وضاحت، ووٹروں کو دوبارہ دستاویز جمع کرانے کی ہدایت

کولکاتہ:ریاست میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن کی سماعت کو لے کر احتجاج تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔ اسی درمیان الیکشن کمیشن نے ایک اچانک نوٹیفکیشن جاری کر کے واضح کر دیا ہے کہ مدھیامک (کلاس 10) کے امتحان کا ایڈمٹ کارڈ بطور دستاویز قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ اس فیصلے کے بعد بی جے پی کے علاوہ تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے اعتراضات اٹھائے ہیں، جبکہ عام ووٹروں میں بھی شدید الجھن پائی جا رہی ہے۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جن ووٹروں نے پہلے ہی سماعت کے دوران مدھیامک ایڈمٹ کارڈ جمع کرا دیا ہے، وہ اب کیا کریں؟ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے الیکشن کمیشن نے ہچکچاہٹ کا شکار ووٹروں کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں۔ کمیشن کے مطابق، بنیادی طور پر جن ووٹروں کے نو میپنگ یا اینومریشن فارم میں معلومات کا تضاد پایا گیا ہے، انہیں ہی سماعت کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ ایسے کئی ووٹروں نے سماعت کے وقت صرف مدھیامک ایڈمٹ کارڈ کو ہی دستاویز کے طور پر پیش کیا تھا۔ اب ان تمام ووٹروں کو متبادل اور درست دستاویزات دوبارہ جمع کرانی ہوں گی۔
الیکشن کمیشن نے بتایا ہے کہ یہ دستاویزات ووٹرز ذاتی طور پر قریبی SIR سینٹر میں یا پھر واٹس ایپ کے ذریعے متعلقہ بوتھ لیول آفیسر کو بھیج سکتے ہیں۔ تاہم، اس سے پہلے ووٹر کو لازمی طور پر اپنے BLO سے رابطہ کرنا ہوگا۔ اس کے بعد کمیشن ان دستاویزات کی جانچ کرے گا اور مناسب فیصلہ لیا جائے گا۔واضح رہے کہ مغربی بنگال میں اکتوبر 2025 کے آخری ہفتے سے SIR کا عمل شروع ہوا تھا۔ یہ نظرثانی 2002 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنا کر کی جا رہی ہے، کیونکہ اسی سال آخری جامع نظرثانی مکمل ہوئی تھی۔ 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے قومی الیکشن کمیشن بنگال سمیت ملک کی 12 ریاستوں میں ووٹر لسٹ کی دوبارہ جانچ کر رہا ہے۔قواعد کے مطابق، اگر کسی ووٹر کا نام 2002 کی ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے تو وہ SIR سماعت میں حاضر ہو کر درست اور منظور شدہ دستاویزات کے ساتھ نام شامل کرنے کی درخواست دے سکتا ہے۔ اسی طرح کسی بھی قسم کی غلطی یا عدم مطابقت کی تصحیح کے لیے بھی دستاویزات جمع کرانا ضروری ہے۔کمیشن پہلے ہی ووٹر لسٹ میں نام شامل کرنے کے لیے 13 مخصوص دستاویزات کی فہرست جاری کر چکا ہے، جن میں مدھیامک ایڈمٹ کارڈ شامل نہیں تھا۔ اس کے باوجود، چونکہ یہ دستاویز اکثر سرکاری معاملات میں قابلِ قبول مانی جاتی رہی ہے، اس لیے ریاستی الیکشن کمیشن کی جانب سے اسے قبول کرنے کی درخواست بھی کی گئی تھی۔ اسی امید پر BLO نے کئی ووٹروں سے پہلے ہی مدھیامک یا کلاس 10 کے ایڈمٹ کارڈ لے لیے تھے۔لیکن جمعرات کو دہلی سے ریاستی الیکشن کمیشن کو بھیجے گئے نوٹس میں صاف لفظوں میں کہا گیا کہ میڈیمک ایڈمٹ کارڈ کو کسی بھی صورت میں شہریت یا ووٹر لسٹ سے متعلق دستاویز نہیں مانا جائے گا۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی ہلچل تیز ہو گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اس فیصلے کے خلاف سخت اعتراض ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے لاکھوں ووٹروں کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے پر قائم رہتا ہے یا سیاسی دباؤ اور عوامی احتجاج کے بعد اس میں کوئی نرمی لائی جاتی ہے۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات