وزیر زراعت نے 42 ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا اور 61 کاموں کا افتتاح کیا
مٹی کا تحفظ اور زمین کا انتظام: مستقبل کی زراعت کے لیے لازمی قدم: رام کرپال یادو
جدید بھارت نیوز سروس
پٹنہ، 16 جنوری: وزیر زراعت، بہار، رام کرپال یادو نے آج بامیتی، پٹنہ سے ریاستی سطح کے واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ – پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا 2.0 کے تحت ‘بہار واٹر شیڈ مہوتسو 2026’ کا آغاز کیا۔ اس پروگرام کی صدارت نرمدیشور لال، پرنسپل سکریٹری، محکمہ زراعت، بہار نے کی۔اس تقریب کے دوران وزیر موصوف نے پودا لگایا۔ اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والی خواتین نے ‘جل کلش یاترا ‘ نکالی۔ واٹر شیڈ اسکیم کے تحت 42 ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور 61 کاموں کا افتتاح کیا گیا۔ ساتھ ہی، اسکیم کی کامیابیوں اور متاثر کن تجربات پر مبنی کتاب ‘سفلتا کی کہانیاں ‘ کا اجراء کیا گیا اور واٹر شیڈ سے متعلق کاموں، اختراعات اور اثرات کو ظاہر کرنے والی معلوماتی ویڈیو بھی دکھائی گئی۔ محکمہ زراعت کی زمین کے تحفظ سے متعلق مختلف اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے ترقی پسند کسانوں نے اس پروگرام کے دوران اسٹیج سے اپنے تجربات بیان کیے اور اسکیموں کے مثبت اثرات اور فوائد کے بارے میں حاضرین کو آگاہ کیا۔وزیر زراعت رام کرپال یادو نے ریاستی سطح کے واٹر شیڈ مہوتسو-2026 سے خطاب کرتے ہوئے پانی کے تحفظ کو زندگی اور ترقی کی بنیاد قرار دیا۔ اپنے خطاب کی شروعات انہوں نے رحیم داس کے مشہور دوہےسے کرتے ہوئے کہا کہ پانی ہی زندگی ہے۔ اس کے بغیر انسان، فطرت اور تہذیب کا وجود ممکن نہیں ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ بھارت ندیوں کا ملک ہے اور بہار ندیوں کی ریاست۔ ہماری ثقافتی روایت میں ندی، تالاب، کنویں، درخت اور زمین کو قابل احترام مانا گیا ہے۔ پنچ تتوا یعنی زمین، پانی، ہوا، آگ اور آسمان پر مبنی یہ فلسفہ بتاتا ہے کہ فطرت کی حفاظت ہی ہماری ثقافتی میراث ہے۔
پانی کا ذخیرہ، پانی کا تحفظ اور زمین کا تحفظ صدیوں سے ہماری طرز زندگی کا حصہ رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی رہنمائی اور وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں محکمہ زراعت کے لینڈ کنزرویشن ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے پردھان منتری کرشی سنچائی یوجنا واٹر شیڈ ڈیولپمنٹ کمپوننٹ 2.0 کے تحت جنوبی بہار کے 17 اضلاع اور شمالی بہار کے بیگو سرائے کو ملا کر کل 18 بارانی اضلاع میں 35 منصوبوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس پانچ سالہ منصوبے کے لیے حکومت ہند نے 440 کروڑ روپے منظور کیے ہیں۔ اس کے تحت 496 ہیکٹر میں شجرکاری، 282 پکے چیک ڈیم، 62 کھیت تالاب، 361 پانی ذخیرہ کرنے والے تالاب، 756 آہر-پین کی مرمت اور 344 کنوؤں کی تعمیر و مرمت کی گئی ہے۔ نئے مالی سال میں پی ایم کے ایس وائی 3.0 کا آغاز ہوگا۔وزیر موصوف نے کہا کہ بہار میں تقریباً 9 لاکھ ہیکٹر زمین مٹی کے کٹاؤ سے متاثر ہے۔ اسے روکنے کے لیے ‘جل-جیون-ہ ہریالی ‘ مشن کے ذریعے تالابوں، آہر-پین کی کھدائی، تزئین و آرائش، شجرکاری اور آبی ذخائر کو تجاوزات سے پاک کیا گیا ہے۔ گنگا کے پانی کو پائپ لائن کے ذریعے نالندہ، راجگیر، گیا اور نوادہ تک پہنچانا پانی کے انتظام کی بہترین مثال ہے۔انہوں نے بتایا کہ دنیا کا تقریباً 4 فیصد میٹھا پانی بھارت میں دستیاب ہے، جس میں سے 80 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے زراعت کے لیے پانی کا سائنسی انتظام انتہائی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کے ’’فور آر‘‘ (ریڈیوس، ری یوز، ریچارج اور ریسائیکل) اور ’’پر ڈراپ مور کراپ‘‘ مہم سے پانی کے تحفظ کو نئی سمت ملی ہے۔وزیر موصوف نے نوجوانوں اور جیویکا دیدیوں سے اپیل کی کہ وہ عوامی شراکت داری کے ذریعے پانی کے ذخیرہ اور تحفظ کو عوامی تحریک بنائیں۔ انہوں نے کہا، ’’جل محفوظ تو ملک محفوظ۔‘‘
پرنسپل سکریٹری، محکمہ زراعت، بہار، نرمدیشور لال نے اپنے خطاب میں کہا کہ انسانی زندگی میں زمین کا کردار پیدائش سے لے کر موت تک انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے مٹی کی اوپری تہہ کو ہمارا قیمتی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ مٹی کی زرخیز اوپری تہہ کو بچانے کے لیے ٹھوس کوششیں کی جانی چاہئیں اور طویل مدتی مستقبل کو مدنظر رکھتے ہوئے منصوبہ بند طریقے سے کام کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ اس مہوتسو کے ذریعے مٹی کے کٹاؤ کو روکنے اور زمین کے تحفظ کو مضبوط بنانے کی سمت میں موثر اور اہم پیش رفت کی جائے گی۔اس موقع پر منوج کمار (اسپیشل سکریٹری، محکمہ دیہی کام)، نند کشور ساہ (اسپیشل سکریٹری، محکمہ دیہی ترقی)، ایس چندر شیکھر (چیف کنزرویٹر آف فارسٹ)، شیلیندر کمار (اسپیشل سکریٹری، محکمہ زراعت)، وامق علی (تکنیکی ماہر، وزارت دیہی ترقی، حکومت ہند)، شمس جاوید انصار (جوائنٹ سکریٹری، محکمہ پنچایتی راج)، رادھا رمن (ڈائریکٹر، لینڈ کنزرویشن، پٹنہ)، ونے کمار سنہا (سپرنٹنڈنگ انجینئر، محکمہ آبی وسائل) سمیت بڑی تعداد میں کسان اور محکمہ کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔



