Thursday, January 15, 2026
ہومWest Bengalپرتیک جین کے گھر اور آئی پی اے سی دفتر سے کچھ...

پرتیک جین کے گھر اور آئی پی اے سی دفتر سے کچھ نہیں ملا

ٰشدید ہنگامے کے بعد دوبارہ سماعت، ترنمول نے شرطی طور پر کیس واپس لینے کا اشارہ دیا

ہائی کورٹ میں ای ڈی آئی کا بڑا دعوی

کولکاتہ:آئی پی اے سی (I-PAC) سے جڑے ای ڈی چھاپوں کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ میں بدھ کو دوبارہ سماعت شروع ہوئی، جہاں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی آئی) نے بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ آئی پی اے سی کے سربراہ پرتیک جین کے گھر اور دفتر سے تلاشی کے دوران کوئی بھی قابلِ اعتراض یا انتخابی دستاویز برآمد نہیں ہوئی۔ اس بیان کے بعد معاملہ مزید سیاسی اور قانونی طور پر حساس ہو گیا ہے۔قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ جمعہ کو اسی کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں شدید بدانتظامی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی تھی، جس کے باعث جج کو سماعت کے دوران اپنی کرسی چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔ اسی پس منظر میں عدالت نے منگل کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ اب اس کیس کی سماعت کے دوران عدالت کے اندر کسی غیر متعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ کیس کی لائیو اسٹریمنگ کی بھی ہدایت دی گئی۔بدھ کو جسٹس شبھرا گھوش کی عدالت میں ای ڈی اور ترنمول کانگریس کی جانب سے دائر کردہ مقدمات کی ایک ساتھ سماعت شروع ہوئی۔ عدالت نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ آئی پی اے سی سے متعلق کسی بھی قسم کی بے ترتیبی برداشت نہیں کی جائے گی۔سماعت کے دوران عدالت نے آئی پی اے سی ضبطی سے متعلق ایک درخواست نمٹا دی، تاہم ای ڈی آئی سے جڑا معاملہ فی الحال زیرِ التوا رکھا گیا۔ جسٹس شبھرا گھوش نے مشاہدہ کیا کہ چونکہ اسی معاملے پر ای ڈی نے سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت کی درخواست (SLP) دائر کر رکھی ہے اور دونوں کیسز کا موضوع ایک ہی ہے، اس لیے سپریم کورٹ میں کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہائی کورٹ میں دوبارہ رجوع کیا جا سکتا ہے۔سماعت کے دوران ای ڈی آئی کے وکیل نے دو ٹوک انداز میں عدالت کو بتایا کہ پرتیک جین کے گھر یا آئی پی اے سی کے دفتر سے کوئی بھی ایسی دستاویز یا مواد نہیں ملا جس کا تعلق ترنمول کانگریس یا انتخابی حکمت عملی سے ہو۔ ان کے مطابق جن دستاویزات کو چوری یا ضبطی سے جوڑا جا رہا ہے، وہ قانونی طور پر قابلِ قبول ہی نہیں ہیں۔اس پر ترنمول کانگریس نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔ پارٹی کے وکلاء نے کہا کہ اگر ای ڈی آئی کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے کہ کچھ بھی برآمد نہیں ہوا، تو ترنمول اس معاملے میں کیس واپس لینے پر غور کر سکتی ہے۔ تاہم ساتھ ہی ترنمول کے وکیل نے ای ڈی آئی کے بیان کو باضابطہ طور پر ریکارڈ میں شامل کرنے کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ بعد میں کوئی تضاد نہ رہے۔ای ڈی کی جانب سے یہ بھی دلیل دی گئی کہ پی ایم ایل اے کی دفعہ 17 کے تحت تلاشی کا عمل مکمل طور پر قانونی تھا اور اس میں کسی قسم کی غیر قانونی مداخلت نہیں کی گئی۔ ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس بی راجور نے عدالت میں کہا کہ اس معاملے کو 2026 کے اسمبلی انتخابات سے جوڑنا گمراہ کن ہے، کیونکہ ابھی تک ووٹنگ کی تاریخوں کا اعلان ہی نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ترنمول کو الیکشن کمیشن سے متعلق کوئی اعتراض ہے تو اسے الگ فورم پر اٹھایا جانا چاہیے۔دوسری جانب ترنمول کے وکلاء نے الزام لگایا کہ ای ڈی خود ہی اپنے کیس کی قابلِ سماعت ہونے پر سوال کھڑے کر رہی ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پوری کارروائی سیاسی دباؤ کے تحت کی جا رہی ہے۔ ترنمول نے یہ بھی واضح کیا کہ سپریم کورٹ میں ان کی جانب سے کوئی کیویٹ داخل نہ کرنے کا ای ڈی کا دعویٰ غلط ہے۔سماعت کے دوران کچھ دیر کے لیے گرما گرم بحث بھی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر اس وقت جب دہلی سے ورچوئل طریقے سے شامل ایڈیشنل سالیسٹر جنرل کے مائیک میں بار بار تکنیکی خلل آیا، جس پر عدالت میں ناراضی ظاہر کی گئی۔واضح رہے کہ یہ معاملہ پرتیک جین کے گھر اور آئی پی اے سی دفتر میں ای ڈی کی تلاشی سے جڑا ہے۔ ترنمول کانگریس کا الزام ہے کہ ای ڈی نے غیر قانونی طور پر تلاشی لی اور انتخابی حکمتِ عملی سے متعلق دستاویزات چرانے کی کوشش کی، جبکہ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ اس کے افسران کے سرکاری کام میں رکاوٹ ڈالی گئی اور کوئلہ اسمگلنگ کیس سے متعلق اہم ڈیٹا غائب ہوا۔اب عدالت کی آئندہ سماعت اور سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت درخواست پر ہی اس ہائی پروفائل معاملے کی سمت طے ہوگی، جس پر ریاست کی سیاست کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات