Monday, January 12, 2026
ہومNational’یہ مسائلِ تلفظ‘ کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد

’یہ مسائلِ تلفظ‘ کے عنوان سے مذاکرے کا انعقاد

نئی دہلی،11 جنوری (یو این آئی) اردو زبان میں تلفظ اور درست لہجے کی بہت اہمیت ہے، اس سے نہ صرف ابلاغ مؤثر ہوتا ہے بلکہ بولنے والے کی علمی قابلیت اور صلاحیت کا بھی اندازہ ہوتا ہے اس کے علاوہ الفاظ کے معانی درست رہتے ہیں۔ تلفظ کی خرابی کی کئی وجوہات ہیں ان میں سماجی و ثقافتی اثرات ، غلط تقلید ، تعلیم و شعور کی کمی، مادری زبان اور تہذیب سے دوری بنیادی وجوہات بیان کی جا سکتی ہیں۔ آج الیکٹرانک اورسوشل میڈیا کے بڑھتے رجحان اور اثرات کے پیش نظر تلفظ کی درستگی اور لب و لہجے کی شاستگی لازمی حیثیت اختیار کر گئی ہے لیکن صد افسوس کہ معدودے چند لوگوں کے شاید ہی اس طرف کسی کا دھیان جاتا ہو۔ اسی ضرورت کے پیش نظر10 جنوری 2026 کو انڈیا اسلامک کلچرل سینٹر میں ‘آئی آئی سی سی ڈائیلاگز کے تحت ‘یہ مسائلِ تلفظ، کے عنوان سے ایک مذاکرے کا انعقاد عمل میں آیا۔ جس میں ممتاز براڈ کاسٹر پرویز عالم نے نامور ناقد، مترجم، شاعر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے شعبہ انگریزی کے سابق صدر پروفیسر انیس الرحمٰن سے گفتگو کی۔
گفتگو کا آغاز سینئر براڈ کاسٹر پرویز عالم نے چند بنیادی سوالوں سے کیا ۔ جیسے کہ آج اسکرپٹ کی بات ہوتی ہے اور دیوناگری یا اصل رسم الخط کا معاملہ اٹھایا جاتا ہے۔ کیا زبان صرف گرامر ہے؟ دیگر زبانوں سے الفاظ اخذ کیے جاتے ہیں تو لفظ پر کس کا حق ہے مادری زبان کا یا اڈاپٹڈ زبان کا؟ لفظ کس کی اجارہ داری ہے؟تلفظ کے معاملے پر اس طرح سے عمومی بحث کم ہوتی ہے اور اگر ہوتی بھی ہے تو صرف شین قاف تک محدود رہ جاتی ہے ۔ اردو کے الفاظ کا تلفظ کیسا ہو؟ اردو زبان پر پنجابی اور بھوجپوری کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا عربی، فارسی ،برج ،کھڑی بولی اور مگدھی کا ۔پروفیسر انیس الرحمٰن نے بتایا کہ تلفظ کے مسائل انگریزی میں بھی ہیں اور ہر زبان میں کم و بیش موجود ہیں۔ خالص کا تصور ناقص ہے کوئی زبان خالص نہیں ہوتی۔ اردو میں یہ معاملات مزید پیچیدہ ہیں، کیوں کہ یہاں لسانیاتی تنوع زیادہ ہے اس میں ایج گروپ اور علاقائی اثرات کا بھی دخل ہے۔ اچھی زبان کیا ہے؟ اس کا کوئی بندھا ٹکا فارمولہ نہیں ہے۔ ہندی زبان میں ماترائیں ہیں، لہذا غلطی کے امکانات کم ہوتے ہیں اردو میں اعراب کا استعمال نہ کے برابر ہے اس لیے غلطیاں زیادہ ہوتی ہیں۔ جہاں تک ایک جیسی آوازوں والے حروف تہجی کا سوال ہے تو اگر یہ حروف اردو سے نکال دیئے جائیں تو اردو بے جان ہو جائے گی۔ اسی ‘ش،ق،ج،ز،گ،غ،ض۔ کی وجہ سے اردو کی نغمگی اور غنایئت برقرار ہے ۔
دوران گفتگو یہ سوال بھی آیا کہ آج اردو زبان کے خالص ہونے پر زور دیا جا رہا ہے اسی لیے زبان سمٹتی جا رہی ہے آکسفورڈ ڈکشنری میں نئے الفاظ شامل کیے جا رہے ہیں تو اردو لغت میں اضافہ، نظر ثانی، توسیع یا دیگر زبانوں کے الفاظ کیوں نہیں شامل کیے جا رہے ہیں؟ پروفیسر انیس الرحمن نے اپنی رائے ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ زبان جہاں جیسے بولی جاتی ہے وہی اس کا تلفظ ہوتا ہے زبان کبھی مردہ نہیں ہوتی زبان اس لیے زندہ ہے کہ ہم زندہ ہیں۔
اردو کا دل اس قدر وسیع ہے کہ اس میں سینکڑوں الفاظ سما جاتے ہیں۔ اگر زبان سیکھنی ہے تو میر سے سیکھ لیجئے ۔اس پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ رہی کہ صف حاضرین سے بھی شرکاء نے اپنی اپنی آراء، تجاویز اور سوالات کے ساتھ سرگرم شرکت کی۔ آخر میں آئی آئی سی سی کے صدر سلمان خورشید نے سبھی شرکاء کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مجموعی طور پر پروگرام کو کامیاب قرار دیا۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات