کولکاتہ، 10 جنوری (یو این آئی) الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) نے حکمراں جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے اعتراضات کے باوجود مغربی بنگال میں کثیرمنزلہ رہائشی کمپلیکس کے اندر پولنگ بوتھ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
کمیشن کے ذرائع کے مطابق، اس اقدام کے لیے سات اضلاع کے مجموعی طور پر 69 بلند و بالا رہائشی کمپلیکس کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایسے کمپلیکس جہاں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 300 سے زیادہ ہے، وہاں پولنگ بوتھ قائم کیے جائیں گے۔ مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر(سی ای او) کے دفتر کے حکام کے مطابق، جنوبی کولکاتہ کے دو اور شمالی کولکاتہ کے آٹھ رہائشی کمپلیکس میں پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔اضلاع میں، جنوبی 24 پرگنہ میں سب سے زیادہ 25 ایسے کمپلیکس ہوں گے، اس کے بعد شمالی 24 پرگنہ میں 22، ہاوڑہ میں چار، مشرقی بردوان میں تین اور ہگلی میں پانچ رہائشی کمپلیکس میں پولنگ بوتھ قائم ہوں گے۔ یو این آئی سے بات کرتے ہوئے ایک سینئر افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا، ’’پولنگ بوتھ ان رہائشی کمپلیکس میں قائم کیے جائیں گے جہاں ووٹرز کی تعداد 300 سے زیادہ ہے۔ کمیشن نے رپورٹس اور سروے کے جائزے کے بعد یہ حتمی فیصلہ کیا ہے۔‘‘یہ فیصلہ ایک طویل تنازع کے بعد سامنے آیا ہے جو کئی مہینوں سے جاری تھا۔ اس سے قبل، وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو خط لکھ کر نجی ہائی رائز رہائشی کمپلیکس کے اندر پولنگ بوتھ قائم کرنے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، جس میں غیر جانبداری اور سیکورٹی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔
الیکشن کمیشن نے مغربی بنگال کی بلند و بالاعمارتوں میں پولنگ بوتھ قائم کرنے کی منظوری دی
مقالات ذات صلة



