نئی دہلی، 10 جنوری (یو این آئی) کانگریس نے انکیتا بھنڈاری قتل کیس کی مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے جانچ چھ ماہ کے اندر مکمل کرانے اور مجرموں کو انصاف کے عمل سے دور رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جن لوگوں نے ریزورٹ پر بلڈوزر چلا کر شواہد کو تباہ کیا، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔مہیلا کانگریس کی صدر الکا لامبا اور پارٹی کے مواصلات محکمہ کے سکریٹری ویبھو والیا نے ہفتہ کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران الزام لگایا کہ ریاست کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے ابتدا ہی سے اس معاملے میں پردہ پوشی کی کوشش کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عوامی دباؤ کے تحت اگرچہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی، لیکن جانچ کے دوران جن وی آئی پیز کے نام سامنے آئے، ان سے پوچھ گچھ تک نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جس ریزورٹ میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا، وہ بی جے پی کے ایک وزیر کا تھا اور وزیراعظم نریندر مودی نے اس معاملے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی، جبکہ انہیں اس پر معافی مانگنی چاہیے تھی۔قتل کے واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتراکھنڈ کی بیٹی انکیتا بھنڈاری بی جے پی لیڈر ونود آریہ کے ریزورٹ میں ملازمت کرتی تھی۔ ملازمت کو ایک مہینہ بھی نہیں ہوا تھا کہ گزشتہ برس 18 ستمبر کو اس پر وی آئی پی مہمانوں کو غیر اخلاقی خدمات فراہم کرنے کا دباؤ ڈالا گیا، لیکن انکیتا نے انکار کر دیا۔ اس کے بعد انکیتا کو قتل کر کے اس کی لاش نہر میں پھینک دی گئی۔انہوں نے کہا کہ 19 سے 22 ستمبر تک صرف گمشدگی کی رپورٹ درج کی گئی اور 23 ستمبر کو مقامی بی جے پی ایم ایل اے رینو بِشٹ نے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر ریزورٹ پر بلڈوزر چلا دیا۔ اس کارروائی کا واضح مقصد ریزورٹ سے تمام شواہد مٹانا تھا، کیونکہ انکیتا وہیں رہتی تھی۔ پھر 24 ستمبر کو انکیتا کی لاش نہر سے برآمد ہوئی، جس کے بعد اس کے والدین نے آخری رسومات ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ معاملہ بڑھنے پر بی جے پی لیڈر ونود آریہ کے بیٹے پلکت آریہ، سوربھ بھاسکر اور انکت گپتا کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتاری کے بعد عوام سڑکوں پر نکل آئے تو وزیر اعلیٰ نے دباؤ میں آ کر اکتوبر 2022 میں ایس آئی ٹی تشکیل دی۔ اس کیس میں تین ملزمان کو عمر قید کی سزا ہوئی، لیکن انکیتا پر دباؤ ڈالنے والا وی آئی پی کون تھا، اس کا اب تک انکشاف نہیں ہو سکا۔



