جدید بھارت نیوز سروس
کھونٹی،9؍جنوری: پڑہا راجا اور ابوا جھارکھنڈ پارٹی کے مرکزی ایگزیکٹو صدر سوما منڈا قتل کیس کی گتھی سلجھانے کے لیے پولیس ایڑی چوٹی کا زور لگاتی نظر آرہی ہے۔ سی آئی ڈی کے اے ڈی جی و رانچی کے انچارج آئی جی منوج کوشک نے خود کھونٹی پہنچ کر ایس پی منیش ٹوپو اور تشکیل شدہ تحقیقاتی ٹیم کے عہدیداروں کے ساتھ میٹنگ کی۔ انہوں نے اب تک کی گئی کارروائی کی معلومات لی اور قتل کی وجوہات سے جڑے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا۔منوج کوشک نے بتایا کہ قتل کیس کی تحقیقات ہر زاویے سے کی جا رہی ہیں۔ ایس پی کی ہدایت پر ایک تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جا چکی ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ جلد ہی اس گتھی کو سلجھا لیا جائے گا اور قتل میں ملوث افراد سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔ اب تک کی معلومات کے مطابق درجن بھر افراد کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ اے ایس پی کرسٹوفر کرکیٹاکی قیادت میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) تشکیل دی گئی ہے، جس میں کھونٹی، سائیکو، مارنگہادا اور مرہو تھانہ انچارج سمیت کل 10 سے 12 پولیس افسران شامل ہیں۔پولیس نے سوما منڈا کے قتل کے پیچھے ہٹار میں واقع مہادیو منڈا کے قریب تقریباً تین ایکڑ زمین کے تنازع کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس زمین کو پڑہا سماج کی زمین قرار دیتے ہوئے رواں سال 3 جنوری کو مرانگ گومکے جے پال سنگھ منڈا کے یوم پیدائش پر ’پتھل گڑی ‘ کی گئی تھی۔ پولیس دیگر پہلوؤں کا بھی باریکی سے جائزہ لے رہی ہے۔واضح رہے کہ 7 جنوری کی شام قبائلی رہنما سوما منڈا کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا، جس کے خلاف کھونٹی میں شدید غم و غصہ دیکھا گیا۔
8 جنوری کو صبح 9 بجے سے شام 5 بجے تک مقامی لوگوں نے کھونٹی کے تمام اہم راستے بلاک کر دیے تھے اور شہر کی تمام دکانیں بند رہی تھیں۔ شام کے وقت ڈی سی اور ایس پی کی یقین دہانی کے بعد معاملہ پرامن ہوا۔



