وینزویلا کے گرفتار صدر نیکولس میڈورواوران کی اہلیہ کو نیویارک لے جا یا گیا
چین نے مادورو کی گرفتاری پر امریکہ کو گھیرا،’فوری رہائی، کا کیا مطالبہ
بیجنگ/واشنگٹن، 4 جنوری (یو این آئی) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو امریکی فوج کی طرف سے حراست میں لینے کے بعد چین نے اس فوجی کارروائی کی سخت مذمت کی ہے اور امریکہ سے مادورو جوڑے کو “فوری طور پر” رہا کرنے کا مطالبہ کیا ہے بیجنگ نے خبردار کیا ہے کہ کسی خودمختار ملک کے خلاف طاقت کا اس طرح کا استعمال بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔چینی وزارت خارجہ کے ایک سرکاری بیان میں امریکہ پر زور دیا گیا ہے کہ وہ وینزویلا کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوششوں کو روکے اور تنازع کو بات چیت کے ذریعے حل کرے۔ نیویارک، 4 جنوری (یو این آئی) اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی کے حوالے سے پیر کے روز ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے۔اقوام متحدہ میں صومالیہ کے مستقل مشن کی ترجمان خدیجہ احمد نے کہا، “صدارت کی طرف سے پیر کے روز صبح 10 بجے ہنگامی اجلاس منعقد کرنے کا ارادہ ہے۔” صومالیہ کے پاس جنوری کے مہینے میں سلامتی کونسل کی صدارت ذمہ داری ہے۔قابل ذکر ہے کہ ہفتے کے روز امریکہ نے وینزویلا کے خلاف بڑے فوجی آپریشن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو قید کر لیا تھا۔وینزویلا میں امریکی فوجی آپریشن اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری پر عالمی رہنماؤں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جس سے بڑا سفارتی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کی حکومت “وینزویلا میں پیش رفت کی نگرانی” کر رہی ہے اور انہوں نے تحمل سے کام لینے پر زور دیا ہے۔انہوں نے کہا “ہم تمام فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ علاقائی استحکام کو محفوظ بنانے اور کشیدگی کو روکنے کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کی راہ اختیار کریں۔” انہوں نے وینزویلا میں جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے بارے میں آسٹریلیا کے دیرینہ خدشات کا اعادہ کیا۔برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ لندن نئی صورتحال واضح ہونے کا منتظر ہے۔اسٹارمر نے کہا کہ”میں پہلے حقائق کو جاننا چاہتا ہوں۔ میں صدر ٹرمپ اور اپنے اتحادیوں سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں بالکل واضح طور پر بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس میں شامل نہیں ہيں، اور ہمارا یقین ہے کہ بین الاقوامی قانون کو برقرار رکھا جانا چاہیے۔”اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکی فوجی آپریشن کا خیرمقدم کرتے ہوئے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی جس کو انہوں نے “آزادی اور انصاف کی جانب سے جرات مندانہ اور تاریخی قیادت” قرار دیا۔جرمنی نے محتاط لہجہ اختیار کیا۔ جرمن وزارت خارجہ نے تمام فریقوں سے “تشدد سے بچنے” اور سیاسی مصالحت کی پیروی کرنے کی اپیل کی۔ اس بات پر زور دیا کہ “بین الاقوامی قانون کا احترام کیا جانا چاہئے” اور یہ کہ وینزویلا “پرامن اور جمہوری مستقبل کے مستحق ہیں۔”چین نے امریکی اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسے طاقت کے بے جا استعمال سے “گہرا صدمہ” پہنچا ہے۔چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ “چین امریکہ کی طرف سے خودمختار ملک اور اس کے صدر کے خلاف طاقت کے استعمال کی شدید مذمت کرتا ہے۔”فرانس نے بھی اس فوجی آپریشن کی نکتہ چینی کی ہے۔
وینزویلا کے صدر نیکولس میڈورو اور ان کی اہلیہ سلیہ فلوریس ایک طیارے کے ذریعے نیو یارک کے ایک فوجی اڈے پر پہنچے ہیں ان دونوں کو ہفتہ کی صبح وینزویلا میں ہونے والے امریکی فوجی حملے کے دوران گرفتار کیا گیا تھا مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، وینزویلا کی نائب صدر ڈیلسی روڈریگیز نے ایک حکومتی ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے نیشنل ڈیفنس کونسل کے اجلاس میں صدر میڈورو اور ان کی بیوی کی فوری رہائی کی درخواست کی انہوں نے کہا کہ میڈورو وینزویلا کے واحد صدر ہیں۔وینزویلا پر حالیہ امریکی حملوں اور صدر میڈورو کی گرفتاری پر دنیا بھر میں تنقید اور تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ہفتہ کو اعلان کیا کہ وہ پیر کو وینزویلا کے خلاف امریکی کارروائی پر ایمرجنسی میٹنگ منعقد کرے گی۔



