تیاریاں مکمل
واشنگٹن،3؍جنوری(ایجنسی): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے رہنما، صدر نکولس مادورو کے خلاف بڑی کارروائی کی ہے۔ اس کامیاب بڑی کارروائی میں صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو پکڑ کر ملک سے باہر لے جایا گیا ہے۔ وینزویلا کے دارالحکومت کراکس پر حملے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اس کا اعلان کیا۔ ٹرمپ کے مطابق یہ کارروائی امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون سے کی گئی۔امریکا کی جانب سے یہ اہم کارروائی ہفتے کے روز نکولس مادورو کی جانب سے ہنگامی حالت کے اعلان کے فوراً بعد سامنے آئی ہے، جب ان کی حکومت نے دارالحکومت کراکس پر حملے کو امریکا کا انتہائی سنگین حملہ قرار دیا۔اس سے قبل وینزویلا کے دارالحکومت کراکس میں کئی نچلی پروازوں اور کم از کم سات دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ وینزویلا کی حکومت نے ان حملوں کو امریکی ‘فوجی جارحیت قرار دیا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق وینزویلا کی حکومت نے امریکہ پر مختلف ریاستوں میں شہری اور فوجی تنصیبات پر حملے کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ وینزویلا نے اسے “فوجی جارحیت” قرار دیتے ہوئے مبینہ امریکی حملوں کی شدید مذمت کی۔حکومت نے کہا کہ یہ حملے کراکس کے ساتھ ساتھ مرانڈا، اراگوا اور لا گویرا کی ریاستوں میں بھی کیے گئے۔ کراکس نے وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنے کی کوشش میں واشنگٹن پر حملہ کرنے کا الزام بھی لگایا، اور یہ عہد کیا کہ ایسی کوششیں “کامیاب نہیں ہوں گی”۔ صدر نکولس مادورو نے قومی ہنگامی حالت کا اعلان کر دیا ہے۔طیاروں اور دھماکوں کی آوازیں سن کر مختلف علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوج حالیہ دنوں میں مبینہ طور پر منشیات کی اسمگلنگ کرنے والی کشتیوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ جمعہ کو وینزویلا نے کہا کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے جمعرات کو نشر ہونے والے پہلے سے ریکارڈ شدہ انٹرویو میں کہا کہ امریکہ وینزویلا میں حکومت کو تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کے تیل کے وسیع ذخائر تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دباؤ کی مہم اگست میں کیریبین میں بڑے پیمانے پر امریکی فوج کی تعیناتی کے ساتھ شروع ہوئی تھی اور کئی مہینوں سے جاری ہے۔



