ایس آئی آر کے زمرے سے کوئی شہری باہر نہ رہ جائے اس کیلئے نوجوان طبقہ آگے آئے: قاضی انظار عالم قاسمی
را نچی، 3؍ جنوری(راست) جیسا کہ معلوم ہے کہ مرکزی حکومت نے ایس آئی آر کے عمل کو تمام ریاستوں کے لیے لازم قرار دیدیا ہے، الگ الگ مراحل میں مختلف ریاستوں کے اندر اس عمل کو انجام دیا جا رہا ہے، ریاست جھارکھنڈ میں بھی ایس آئی آر ہونا ہے، لہذا عوام کی سہولت کی خاطر مولانا احمد ولی فیصل رحمانی زید مجدہم امیرِ شریعت بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ و مغربی بنگال نے اپنے پیغام میں کہا کہ موجودہ حکومت نے بلا ضرورت ایس آئی آر کو نافذ کیا ہے اور عوامی احتجاج کے باوجود اسے نافذ العمل رکھا گیا، حالانکہ اس کے پسِ پشت ارباب حکومت کی نیت درست نہیں ہے۔ چونکہ مستقبل میں ووٹر آئی ڈی کو شہریت سے جوڑا جائے گا اور معمولی غلطی پر بھی شہریت پر سوال اٹھ سکتے ہیں، اس لیے جھارکھنڈ میں ایس آئی آر کے آغاز سے پہلے ہی عوام کو مکمل طور پر باخبر کرنا ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت امارتِ شرعیہ بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ نے ایک وفد تشکیل دیا ہے؛ جو ڈیڑھ ماہ تک ریاست کے تمام اضلاع میں بالترتیب نوجوانوں کو عملی اور قانونی تربیت فراہم کرے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ نوجوان کم پڑھے لکھے اور عام لوگوں کی مدد کے لیے آگے آئیں۔ آخر میں انہوں نے تمام شہریوں سے اپیل کی کہ ذات، قبیلہ اور مذہب سے بالاتر ہو کر محض اپنی شہریت کے تحفظ کے لیے اس تربیتی مہم میں بھرپور شرکت کریں۔ حضرت امیر شریعت کا مذکورہ پیغام مرکزی دار القضا ءامارتِ شرعیہ بہار، اڑیسہ، جھارکھنڈ کے قاضی شریعت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی نے پڑھ کر سنایا اس کے بعد معاون ناظم امارت شرعیہ مولانا احمد حسین قاسمی مدنی نےمورخہ 3؍جنوری 2026 کو مسافر خانہ ہال انجمن اسلامیہ رانچی میں منعقد ہ پریس کانفرنس میں موجود اخبارات اور ڈیجیٹل میڈیاکے نمائندوں سے کہا ہے کہ امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی کی ہدایت ہے کہ ریاستِ جھارکھنڈ میں ایک جامع، منظم اور ہمہ گیر تربیتی مہم کا آغاز کیا جا ئے، جس کا مقصد پورے جھارکھنڈ میں ایک ایسی تربیت یافتہ ٹیم تیار کرنا ہے جو بلا تفریق مذہب و ملت عوام کی ایس آئی آر، پیرنٹل میپنگ، فارم 6 اور فارم 8 کے معاملے میں تعاون کرسکے تاکہ جب ایس آئی آر کا مرحلہ شروع ہو تو ریاست میں کوئی شہری ایس آئی آر کے زمرے سے باہر نہ رہے ۔
انہوں نے کہا کہ اس مہم کے تحت پیرنٹل میپنگ اور فارم نمبر 6، 7 اور 8 کے تعلق سے عوام میں مکمل اور عملی آگاہی پیدا کی جائے گی، تاکہ ایس آئی آر کے وقت جھارکھنڈ کا کوئی بھی شہری انتخابی فہرست سے محروم نہ رہ جائے اور کسی فرد کا نام ووٹر لسٹ میں درج ہونے سے چھوٹنے نہ پائے۔چنانچہ پوری ریاست کے تمام اضلاع کے بلاکوں میں امارت شرعیہ کے حضرات قضاۃ کی نگرانی میں ترتیب وار مختلف تاریخوں میں تربیتی ورکشاپ کا نظام بنایا گیا ہے جہاں بڑی تعداد میں نوجوان طبقہ اور سماجی کارکنان امارت شرعیہ کے اس وفد کے ذریعے SIR سے متعلق بنیادی معلومات حاصل کر سکیں گےاور کام کرنے کا صحیح طریقہ جانیں گے جس سے انہیں ایس آئی آر کے مرحلوں میں فارم بھرنے میں مدد ملے گی۔ مزیدانہوں نے کہا کہ امیرِ شریعت کے حکم کے مطابق اس مہم کے تحت پورے ایک ماہ ریاست کے ہر بلاک میں پہنچ کر تیار شدہ مواد کی مدد سے پروجیکٹر کے ذریعےنوجوانوں کی عملی تربیت کے لیے خصوصی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی، جن میں تعلیم یافتہ، باشعور اور سماجی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کو عملی میدان میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا،اور اس تربیتی مہم میں قبائلی برادریوں مثلاً سنتھالی، اُراؤں، ہو، منڈا، کھڑیا کو بھی ان شاءاللہ ٹریننگ دی جائے گی۔
اس موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس میں مختلف ملی جماعتوں کے نمائندوں میں سے، حاجی شاہ عمیر جنرل سکریٹری جمعیت علماء (میم)، ساجد انصاری ذمہ دار جماعت اسلامی شہر رانچی، مولانا شفیق عالیاوی ذمہ دار جمعیت اہل حدیث، مختار احمد صدر انجمن اسلامیہ رانچی، ڈاکٹر طارق حسین سکریٹری انجمن اسلامیہ رانچی، تہذیب الحسن نمائندہ شیعہ جماعت، مولانا صابر حسین مظاہری صدر مجلس علماء جھارکھنڈاور افضل انیس یونائٹیڈ ملی فورم موجود تھے، جنہوں نے میڈیا سے اس حساس موضوع پر بات چیت کی۔ مختلف پنچایتوں سے اسلام صدر ادریسیہ پنچایت، معراج گدی صدر گدی پنچایت، سیف الحق جنرل سکریٹری عراقی پنچایت، استخار عرف پپو نائب صدر راعین پنچایت، مجید انصاری صدر جمعیت المؤمنین، اسلام حواری پنچایت، ایوب راجا صدر پٹھان پنچایت، رضوان نائب صدر جمعیت الانصار ڈورنڈہ مہا پنچایت، حاجی مظہر صدر مرکزی پنچایت ڈورنڈہ شریک تھے۔
دیگر مذہبی و قبائلی جماعتوں سے پرفل لِنڈا سماجی و سیاسی ایکٹیوسٹ، پربھاکر ترکی سوشل ایکٹیوسٹ، رتن ترِکی آدی واسی، جوتی سنگھ متھارو مائنارٹی کمیشن جوائنٹ سکریٹری، پیٹر پروین سوشل ایکٹیوسٹ، پروفیسر ہربیندر بیر سنگھ سوشل ایکٹیوسٹ، محترمہ دَیا مَنی بارلا (خاتون) سوشل ایکٹیوسٹ، سسٹر لینا، فادر ایلیکس معززین شہر میں سے شمیم علی آمیا سنگٹھن، ایڈووکیٹ مختار ریٹائرڈ اسسٹنٹ سالیسٹر جنرل، مفتی سلمان قاسمی خطیب، مسجد طیب الہی بخش کالونی، مولانا طلحہ ندوی، خطیب مکہ مسجد ہنڈپیڑھی، قاری انصاراللہ خطیب مدینہ مسجد ہندپڑھی، ابرار وقف بورڈ ممبر، حاجی حلیم الدین رکن ارباب حل و عقد موجود تھے ۔
ملی جماعتوں، سماجی انجمنوں اور مختلف قبائل کے موجودتمام شرکاء نے متفقہ طور پر کہا کہ موجودہ حالات میں یہ مہم ایک نہایت ضروری، بروقت اور عوامی مفاد سے جڑا ہوا قدم ہے، جس سے عام شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں عملی مدد ملے گی ہم تمام لوگ امارت شرعیہ کے اس رہنمایانہ عمل کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ پریس کانفرنس کے شرکا نے واضح کیا کہ امارتِ شرعیہ کا یہ اقدام مکمل طور پر اصلاحی، تعمیری اور عوامی مفاد پر مبنی ہے، جس کا کسی بھی سیاسی جماعت یا سیاسی مفاد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ یہ ہندوستان کے شہریوں کی بے لوث اور مخلصانہ خدمت پر مبنی عمل ہے ،اس مہم کا مقصد صرف یہ ہے کہ جھارکھنڈ کا ہر شہری اپنے آئینی، سماجی اور باہمی حقوق سے واقف ہو اور ان کے تحفظ میں فعال کردار ادا کرے۔
آخر میں امارت شرعیہ بہار اڑیسہ وجھارکھنڈ اور دیگر ملی جماعتوں، قبائل اور انجمنوں کے ذمہ داران نےمشترکہ طورپر جھارکھنڈ کے عوام ، خاص کر نوجوانوں، سماجی کارکنوں، دانشوروں اور ذمہ دار افراد سے اپیل کی کہ وہ اس تربیتی مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں ، بلا تفریق مذہب ہر ایک کے کام میں معاون ہوں اور امارتِ شرعیہ کے اس اصلاحی و فلاحی سلسلے کو کامیاب بنانے میں اپنا بھرپور تعاون پیش کریں۔
اس پریس کانفرنس میں بہار ،اڈیشہ و جھارکھنڈ کےقاضی شریعت حضرت مولانا مفتی محمد انظار عالم قاسمی، معاون ناظم مولانا احمد حسین قاسمی مدنی، مکاتب امارت شرعیہ کے ذمہ دار مولانا منت اللہ حیدری، دارالقضاء امارت شرعیہ جمشیدپور کےقاضی شریعت مولانا سعود عالم قاسمی، جناب مولانا ذیشان قاسمی مرکزی دارالقضاء امارت شرعیہ ریسرچ ٹیم کے ارکان جناب مفتی قیام الدین قاسمی ، مولانا اکرام الدین قاسمی، ڈاکٹر حفظ الرحمٰن حفیظ اور دار القضاء رانچی کےمعاون قاضی مفتی ابو داؤد قاسمی کے علاوہ شہر رانچی کے مختلف عمائدین و ذمہ داران حضرات مختلف جماعتوں و تنظیموں کی جانب سےشریک تھے۔



