Friday, January 2, 2026
ہومNationalبنگلہ دیش ایک خطرناک جغرافیائی سیاسی اور نظریاتی بھنور میں پھنستا جارہا...

بنگلہ دیش ایک خطرناک جغرافیائی سیاسی اور نظریاتی بھنور میں پھنستا جارہا ہے

بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ نے پاک چین محور اور دہشت گردی کے ماڈیولزکے تعلق سے خبردار کیا

نئی دہلی، یکم جنوری (یو این آئی/جینت رائے چودھری) بنگلہ دیش ایک خطرناک جغرافیائی سیاسی اور نظریاتی بھنور میں پھنستا جارہا ہے کیونکہ وہ پاکستان اور چین کے قریب ترہورہا ہے اور مذہبی انتہا پسندی کو اندرون ملک پنپنے دے رہا ہے۔ ملک کے ایک سابق وزیر خارجہ نے شیخ حسینہ کے بعد معاشی جمود، سفارتی تنہائی اور سماجی شکستگی کی بےرنگ تصویرپیش کرتے ہوئے خبردار کیا ہے۔یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا(یواین آئی) کو دیئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں، پروفیسر اے کے عبدالمومن نے ، جنہوں نے 2019-2024 تک بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ کے طور پر خدمات انجام دیں، کہا کہ بنگلہ دیش-پاکستان-چین کا محور نہ صرف ڈھاکہ بلکہ وسیع تر جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کے لیے، گہرے عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔پروفیسر مومن نے کہا’’ یہ اس محور کی نوعیت پر منحصر ہے،جس سے کئی طرح کی صورتحال پیداہوسکتی ہے‘‘۔انھوں نے متعدد خطرات کے بارے میں بات کی جن میں اکسانے کا دباؤ یاامریکہ کی طرف سے پابندیاں، بین الاقوامی فورموں پر ساکھ کھونا؛ ہندوستان اور دوسرے آزاد خیال پڑوسیوں کو الگ کرنا، اور سب سے زیادہ افسوسناک جہادی بنیاد پرستی اور آمرانہ حکمرانی کی طرف بڑھنا شامل ہیں ۔بنگلہ دیش کے خارجہ امور کے مشیر محمد توحید حسین نے اس ماہ کے اوائل میں کہا تھا کہ ڈھاکہ کا ہندوستان کے بغیر پاکستان کے ساتھ ایک علاقائی گروپ میں شامل ہونا “اسٹریٹجک لحاظ سے ممکن” ہے ۔ یہ بھی معلوم ہے کہ آنجہانی وزیر اعظم بیگم ضیاء کے دور میں بی این پی کے چین اور پاکستان دونوں کے ساتھ قریبی تعلقات تھے اور انھوں نے آئی ایس آئی کو دہشت گردی کے کیمپ چلانے کی اجازت دی تھی جس کا مقصد ہندوستان کے شمال مشرق کو غیر مستحکم کرنا تھا۔مومن نے کہا کہ بنگلہ دیش کی شناخت ہی داؤ پر لگی ہوئی ہے – ایک ایسا ملک جو 1971 میں آزادی کی خونریز جنگ سے وجود میں آیا، جس کی بنیاد سیکولر قوم پرستی اور لسانی افتخار پر رکھی گئی تھی، اب اسے دوبارہ “جہادی ملک” کے طور پر پیش کیے جانے کے اندیشے کا سامنا ہے، جہاں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری بنا دیا جائے گا اور جمہوری اداروں کو کھوکھلا کر دیا جائے گا۔مسٹرمومن نے یو این آئی سے کہا ’’بنگلہ دیش-پاکستان-چین محور کی نوعیت کودیکھتے ہوئے … مندرجہ ذیل حالات پیداہوسکتے ہیں … اسے (ڈھاکہ) بھارت سے دشمنی کی ترغیب دی جا سکتی ہے، جس کے سنگین منفی نتائج (بشمول) سرحدی لڑائی اور دراندازی، بڑھتے ہوئے دباؤ اور یہاں تک کہ امریکہ کی طرف سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، اس کی چین سے قربت اور انحصار کی بنا پراسکی بین الاقوامی سطح پر قبولیت ختم ہوسکتی ہے اوریہ ایک جہادی ملک بن سکتاہے جہاں خواتین کو دوسرے درجے کا شہری سمجھا جائے‘‘ ۔پروفیسر مومن کا انتباہ شیخ حسینہ کے جانے کے بعد بنگلہ دیش کی سیاسی صورتحال پر بڑھتے ہوئے اضطراب کے درمیان سامنے آیا ہے، جن کا دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک ملک کی سیاست پر غلبہ حاصل تھا۔ان کے ناقدین نے اختلاف رائے کو برداشت نہ کرنے کے بارے میں جو بھی کہا ہو لیکن سابق وزیر خارجہ نے دلیل دی کہ وہ ایک غیر مستحکم سیاسی منظر نامے میں ایک غیر معمولی مستقل مزاجی کے ساتھ نمائندگی کی۔ ایک سیکولر، غیر فرقہ پرست رہنما کے طورپر انھوں نے مذہبی اور نسلی خطوط سے بالاترہوکر معاشی ترقی اور سماجی بہبود کو ترجیح دی۔ انہوں نے کہا کہ حسینہ کے بعد کے دور میں بنیاد پرستوں اور جہادیوں کا عروج بہت حقیقی ہے۔’’ یہ انسانیت کی قومی جذبے کو تباہ کر دے گا اور مذہب یا عقیدے کی بنیاد پر سماجی تقسیم کا باعث بنے گا۔‘‘ انہوں نے حالیہ وحشیانہ ہلاکتوں کے سلسلے کی طرف اشارہ کیا، جس میں ملبوسات کی فیکٹری کے ایک ورکر، دیپو داس کو عوامی تشدد کا نشانہ بنااور جلانا، اور دن دھاڑے پتھر سے مارکرکی جانے والی لنچنگ شامل ہے جس کو وہ ’’قرون وسطیٰ‘‘ کے تشددسے تعبیرکرتے ہیں ۔مومن نے متنبہ کیا کہ بنگلہ دیش کے فرقہ وارانہ حالات سے اس کے اثرات ہندوستان پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں، مسلم اقلیتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے اور علاقائی عدم اعتماد مزید گہرا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’جہادی بنیاد پرست سماجی اور سیاسی استحکام کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہیں — بنگلہ دیش اور اس سے باہر بھی ‘‘ ۔اس سنگین پیش گوئی کے برخلاف ، پروفیسر مومن نے شیخ حسینہ کی حکمرانی کو ’’سنہرے دور‘‘ سے تعبیرکیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ حسینہ کے اقتدار کے 21 برسوں کے دوران، بنگلہ دیش نے خود کو ایک ’’بے پایاں معیشت‘‘ سے تیزی سے ترقی کرنے والے ایک ملک میں تبدیل کر دیا ہے، جس نے اقوام متحدہ جیسے اداروں سے تعریف حاصل کی اور وال اسٹریٹ جرنل جیسی اشاعتوں سے تعریفیں حاصل کیں، جس نے ملک کو کبھی “اسٹینڈرڈ بیئرر آف ساؤتھ” قرار دیا تھا۔حسینہ کے دور میں، بنگلہ دیش نے 2009 اور 2024 کے درمیان 6.6 فیصد کی اوسط سالانہ ترقی کی شرح کو برقرار رکھا، جو پہلے کی دہائیوں کی رفتار سے دگنی ہے۔ غربت میں تیزی سے کمی آئی، 2009 میں 42 فیصد سے 2023 میں 17 فیصد تک، جب کہ 1990 کی دہائی کے وسط میں معیشت کا حجم 90 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 480 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔پروفیسر مومن نے ان کامیابیوں کو “حسینہ اکنامکس” کے نام سے منسوب کیا جس میں تیز رفتار ترقی اور سماجی بہبود دونوں پر ایک ساتھ توجہ مرکوزکی گئی ۔ ان کی حکومت نے یونیورسل بجلی، بڑے پیمانے پر اسکولوں میں اندراج، افرادی قوت میں خواتین کی شرکت، ڈیجیٹل مہارتوں اور بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کو آگے بڑھایا، ساتھ ہی ساتھ بزرگوں، بیواؤں، طلباء اور غریب ترین خاندانوں کے لیے سماجی تحفظ کے وسیع پروگرام بھی شروع کیے۔وزیر خارجہ کے طور پر، مومن نے کہا کہ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے محتاط سفارتی اندازمیں بنگلہ دیش کی ترقی کے عزائم کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی: ’’ پڑوسی مقدم ‘‘ کے نقطہ نظر کے ساتھ ’’سب سے دوستی، کسی سے بدگمانی نہیں ‘‘۔مومن نے واضح کیا کہ اقتصادی سفارت کاری، عوامی سفارت کاری اور علاقائی امن و استحکام کا نظریہ سرمایہ کاری کو راغب کرنے، برآمدات کو متنوع بنانے اور بنگلہ دیش کوبڑی طاقتوں کی عداوت سے دور رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔

Jadeed Bharat
Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.
مقالات ذات صلة
- Advertisment -
Google search engine

رجحان ساز خبریں

احدث التعليقات