ہومWest Bengalآسام ماڈل پر بنگال میں دراندازی کے خلاف کارروائی؟

آسام ماڈل پر بنگال میں دراندازی کے خلاف کارروائی؟

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

وزیر اعلی ٰشوبھندو ادھیکاری کا بڑا اشارہ، این آر سی جیسے اقدامات کی چہ مگوئیاں تیز

کولکاتہ :مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت بننے کے بعد دراندازی اور سرحدی سکیورٹی کا مسئلہ ایک بار پھر سیاسی بحث کا بڑا موضوع بن گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے آسام کے دورے کے دوران ایسے اشارے دیے ہیں جن کے بعد یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ کیا اب بنگال میں بھی آسام ماڈل پر کارروائی ہوگی؟ کیا مستقبل میں این آر سی جیسے اقدامات بنگال میں بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں؟بی جے پی شروع سے ہی بنگال میں بنگلہ دیشی دراندازی کا مسئلہ اٹھاتی رہی ہے۔ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بار بار کہا تھا کہ دراندازی کو روکا جائے گا اور غیر قانونی طور پر رہنے والوں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ اب حکومت بننے کے بعد وزیر اعلیٰ شوبھندادھیکاری بھی اسی سخت لہجے میں نظر آ رہے ہیں۔شوبھندوادھیکاری حال ہی میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی حلف برداری تقریب میں شامل ہونے آسام گئے تھے۔ وہاں انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آسام اور تریپورہ میں بی جے پی حکومت نے دراندازی روکنے اور سرحدی سکیورٹی مضبوط بنانے کے لیے جو کام کیا ہے، بنگال میں بھی اسی طرز پر اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے اس بیان کے بعد سیاسی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔بی جے پی کا الزام ہے کہ ترنمول کانگریس کے دور حکومت میں بنگلہ دیشی درانداز بڑی تعداد میں سرحدی اضلاع میں آباد ہوئے اور ووٹ بینک کی سیاست کے تحت ان کے خلاف سخت کارروائی نہیں کی گئی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بنگال کی سرحدی حفاظت کو مضبوط کرنا اور غیر قانونی دراندازی روکنا اب نئی حکومت کی ترجیح ہوگی۔آسام میں این آر سی اور سرحدی نگرانی کے معاملے کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہوئے س شوبھندوادھیکاری نے کہا کہ ملک کے مفاد میں آسام میں جو کام ہوئے ہیں، ان سے سیکھ کر بنگال میں بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ آسام اور تریپورہ میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد دراندازی کے مسئلے پر کافی حد تک قابو پایا گیا۔وزیر اعلیٰ نے آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمانتا ان کے “بڑے بھائی” کی طرح ہیں اور ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ شوبھندونے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان طویل عرصے سے اچھے تعلقات ہیں اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔ ان کے مطابق ہمانتا بسوا سرما کی حکمرانی اور انتظامی انداز سے بنگال بھی فائدہ اٹھا سکتا ہے۔شوبھندو ادھیکاری کے اس بیان کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بی جے پی پر سیاست گرم کرنے کا الزام لگانا شروع کر دیا ہے۔ دوسری طرف بی جے پی حامیوں کا کہنا ہے کہ سرحدی سکیورٹی اور دراندازی کے مسئلے پر سخت قدم اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ بنگال حکومت واقعی آسام ماڈل پر چلتے ہوئے کوئی بڑا قدم اٹھاتی ہے یا یہ صرف سیاسی بیان بازی تک محدود رہتا ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.