ہومNationalایس آئی آر کا عمل غیر آئینی اور جمہوریت کا مذاق: سابق...

ایس آئی آر کا عمل غیر آئینی اور جمہوریت کا مذاق: سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

نئی دہلی، 18 اپریل (یو این آئی) سابق چیف الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی نے ملک بھر میں جاری ووٹرفہرستوں کی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اسے غیر آئینی اور عوام کے خلاف ایک سازش قرار دیا ہے انسانی حقوق کی تنظیم ‘جن ہستکشیپ،کی جانب سے یہاں پریس کلب آف انڈیا میں ” سلیکٹنگ دی الیکٹرز:ماکری آف ڈیموکریسی” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر قریشی نے کہا کہ یہ عمل ووٹر لسٹ اور انتخابی قوانین کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ مسٹر قریشی نے واضح کیا کہ ووٹر لسٹ میں نام ہونا اور ووٹ کا حق شہریوں کا آئینی حق ہے، یہ حکومت یا الیکشن کمیشن کی کوئی ‘مہربانی یا ‘خیرات، نہیں ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کا پورا عمل غیر شفاف ہے اور اس کے ذریعے شہریوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ چونکہ مغربی بنگال میں ووٹر فہرست ادھوری اور ناقص ہیں، اس لیے وہاں پرانی فہرستوں کی بنیاد پر ہی پولنگ کرائی جانی چاہیے۔سیمینار میں موجود دانشوروں اور کارکنوں نے متفقہ طور پر ایس آئی آر کے عمل کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پرشانت بھوشن نے کہا کہ خاص طور پر مغربی بنگال میں ‘منطقی تضاد، (لوجیکل ڈسکریپینسی) کے نام پر لاکھوں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کیا جا رہا ہے، جو کہ تشویشناک ہے۔ وہیں آئی ایف ٹی یو کی قومی صدر ڈاکٹر اپرنا نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بنگال کے سرحدی اضلاع میں کاٹی گئی فہرستوں میں 58.5 فیصد نام مسلم کمیونٹی کے ہیں۔ انہوں نے اسے ‘غیر ملکی دراندازی، کا تاثر قائم کرنے کی کوشش قرار دیا، جس سے سب سے زیادہ مہاجر مزدور اور خواتین متاثر ہو رہی ہیں۔پریس کلب کی صدر سنگیتا بروا نے آسام ماڈل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں 19 لاکھ لوگوں کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا اور اب بنگال میں بھی ویسی ہی صورتحال پیدا کی جا رہی ہے۔ جن ہستکشیپ کے شریک کنوینر انل دوبے نے بحث کا اختتام کرتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر کو حد بندی اور ‘ایک ملک ، ایک انتخاب، سے جوڑ کر دیکھا جانا چاہیے، جس کا مقصد کروڑوں غریبوں اور اقلیتوں کو حق رائے دہی سے محروم کر کے انہیں صرف کارپوریٹ کے لیے ‘سستی لیبر،بنا کر رکھنا ہے۔سیمینار میں کچھ قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ ان میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کا مطالبہ ہے کہ مغربی بنگال سمیت ملک بھر میں ایس آئی آر کا عمل فوری طور پر روکا جائے اور 2025 کی اپ ڈیٹ لسٹ کو بنیاد بنا کر ووٹ کا حق دیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک قرارداد میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا کام ووٹر لسٹ میں نام درج کرنا ہے، وہ شہریت سے متعلق دستاویزات کی جانچ کر کے وزارت داخلہ کا کام اپنے ہاتھ میں نہ لے، اور جن ووٹروں کے نام کاٹے گئے ہیں اور جن کی اپیلیں زیر التوا ہیں، انہیں فوری طور پر ووٹ ڈالنے کی اجازت دی جائے ورنہ انتخابات بے معنی ہوں گے۔اس تقریب میں دہلی یونیورسٹی کے سابق پروفیسر بدری رینا اور سابق صدر جمہوریہ کے او ایس ڈی ستیہ نارائن ساہو سمیت بڑی تعداد میں صحافیوں، طلباء اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت اور نظامت سینئر ایڈوکیٹ اشوک پانڈا نے کی جبکہ انل دوبے نے بحث کا خاکہ پیش کیا۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.