وارانسی، 12 مئی (یواین آئی) وزیر اعظم نریندر مودی کی ایک سال تک غیر ضروری صورت میں سونا نہ خریدنے کی اپیل نے صرافہ کاروباریوں کی تشویش بڑھا دی ہے تاجروں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی اپیل سے ہزاروں خاندانوں کی روزی روٹی پر بحران آ سکتا ہے جب کوئی سونا نہیں خریدے گا تو اس کاروبار سے وابستہ تاجر، کاریگر اور چھوٹے بڑے صرافہ کاروباری کہاں جائیں گے کاشی میں اس معاملے کو لے کر صرافہ تاجروں میں ناراضگی پائی جا رہی ہے شادی، تہوار، دیگر خوشی کے مواقع یا سرمایہ کاری کے لیے سونے کی خریداری میں آنے والے دنوں میں بڑی کمی آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔تاجر کیشو پرساد نے کہا، “جب سونے کی قیمت کم تھی، اسی وقت اپیل کرتے، آج سونا ڈیڑھ لاکھ کی قیمت پر ہے تو نہ خریدنے کی اپیل کیوں؟ سونا خرید کون رہا ہے؟ صرف امیر لوگ خریداری کر رہے ہیں۔ چھوٹے صرافہ تاجروں کا کاروبار تو ایسے ہی بڑے شوروم والے کھا گئے ہیں۔ جو تاجر سرمایہ لگا کر بیٹھے ہیں، ان کا کیا ہوگا؟”سنتوش کمار نے بتایا کہ عوام اس اپیل کو مختلف زاویوں سے دیکھ رہی ہے۔ صرافہ بازار پر اس کا بڑا اثر آنے والے دنوں میں نظر آئے گا۔ سونا پہلے ہی مہنگا ہے اور اس پر نہ خریدنے کی اپیل چھوٹے تاجروں اور کاریگروں کے لیے بڑا مسئلہ کھڑا کر دے گی۔ گھریلو اخراجات چلانا مشکل ہو جائے گا۔تاجر گوپی ناتھ نے کہا کہ مستقبل میں اس طرح کے بیانات کا براہِ راست اثر تجارت پر پڑے گا۔ صرافہ تاجروں کے لیے یہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔ کیا اب صرافہ تاجر پکوڑے بیچیں گے؟ تاجر منوج کمار نے کہا، ’’مودی جی نے کہا ہے کہ جتنی ضرورت ہو اتنی ہی خریداری کریں، غیر ضروری طور پر سونا نہ خریدیں۔ اس کے پیچھے کوئی بڑی وجہ ہوگی۔ ان کی باتیں قومی مفاد سے متعلق ہیں، اس لیے سب کو صبر سے کام لینا چاہیے اور جلد بازی میں کوئی نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے۔”وارانسی صرافہ ایسوسی ایشن کے صدر سنتوش اگروال نے بتایا کہ زیورات کی تیاری میں کمی آنے کا خدشہ ہے۔ بنارس میں سینکڑوں سنار کاریگروں اور دکانداروں پر اس کا براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نے موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر صرف اپیل کی ہے، اس لیے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسوسی ایشن کے دیگر عہدیداروں نے کہا کہ بازار پر کوئی براہِ راست اثر نہیں پڑے گا۔ خواتین ہمیشہ سے زیورات میں سرمایہ کاری کرتی آئی ہیں اور آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔
