ہومNationalبامبے ہائی کورٹ سے اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کو بڑی راحت

بامبے ہائی کورٹ سے اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کو بڑی راحت

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

ٹی ای ٹی بنیاد بنا کر تقرری مسترد کرنے پر افسران کی سخت سرزنش

اورنگ آباد ، 12 مئی (یو این آئی) بامبے ہائی کورٹ کی اورنگ آباد بنچ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ اقلیتی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے ٹیچر الیجبلیٹی ٹیسٹ (ٹی ای ٹی) لازمی نہیں ہے۔ عدالت نے اقلیتی اسکولوں میں اساتذہ کی تقرری کی منظوری صرف ٹی ای ٹی پاس نہ ہونے کی بنیاد پر مسترد کرنے پر ایجوکیشن افسران کی سخت سرزنش کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ایسی غلطیاں دہرائی گئیں تو متعلقہ افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔جسٹس وبھا کنکنواڑی اور جسٹس اجیت بی کاڈےٹھانکر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے مہاراشٹر کے اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو بڑی راحت دیتے ہوئے تین الگ الگ رٹ درخواستوں کو جزوی طور پر منظور کر لیا اور شکشن سیوک کے طور پر مقرر اساتذہ کی منظوری مسترد کرنے والے تعلیمی افسران کے احکامات کو کالعدم قرار دے دیا۔یہ عرضیاں سید ابو زید سید رفیق اور ایک دیگر درخواست گزار، گائیکواڑ سیالی وینکٹیش اور سائناتھ گنپت بانسوڈے کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔ ان تمام معاملات میں محکمہ تعلیم نے اس بنیاد پر تقرریوں کی منظوری دینے سے انکار کیا تھا کہ متعلقہ اساتذہ نے ٹی ای ٹی امتحان پاس نہیں کیا تھا۔ عدالت میں سید ابو زید اور دیگر کی جانب سے ایڈوکیٹ سید توصیف یاسین، گائیکواڑ سیالی وینکٹیش کی جانب سے ایڈوکیٹ شیخ طارق مبین ایچ جبکہ سائناتھ گنپت بانسوڈے کی جانب سے ایڈوکیٹ کے پی روڈگے نے پیروی کی۔سماعت کے دوران درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ متعلقہ اسکول اقلیتی ادارے ہیں، اس لیے ان پر ٹی ای ٹی کی شرط اسی طرح نافذ نہیں کی جا سکتی جیسے غیر اقلیتی اسکولوں پر نافذ کی جاتی ہے۔ درخواست گزاروں نے سپریم کورٹ کے مقدمہ “انجمن اشاعت تعلیم ٹرسٹ بنام ریاست مہاراشٹر و دیگر” کے فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں اقلیتی اداروں پر ٹی ای ٹی لاگو ہونے کے سوال کو حتمی فیصلہ کے لیے بڑی بنچ کے سپرد کیا گیا ہے۔درخواست گزاروں نے بامبے ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے “سریکا مادھوراؤ شندے بنام ریاست مہاراشٹر و دیگر” کا بھی حوالہ دیا، جس میں اقلیتی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کو اسی نوعیت کی راحت دی گئی تھی۔ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ چوں کہ اقلیتی تعلیمی اداروں پر ٹی ای ٹی لاگو ہونے کا قانونی معاملہ ابھی سپریم کورٹ میں زیر غور ہے، اس لیے تعلیمی افسران کے پاس یہ اختیار نہیں کہ وہ صرف ٹی ای ٹی پاس نہ ہونے کی بنیاد پر تقرری کی منظوری کی درخواستیں میکانکی انداز میں مسترد کریں۔عدالت نے تعلیمی افسران کے رویے پر سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی عدالت کی تنبیہ کے باوجود افسران اسی طرح کے غلط احکامات جاری کرتے رہے ہیں۔ بنچ نے کہا کہ ماضی میں افسران غیر مشروط معافی پیش کر چکے ہیں، اس کے باوجود عدالتی ہدایات پر عمل نہیں کیا جا رہا۔ عدالت نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ ایسی حرکتیں دہرائی گئیں تو سخت نتائج بھگتنا ہوں گے۔عدالت نے اس حقیقت کا بھی نوٹس لیا کہ ایک عرضی میں متعلقہ سوسائٹی کو 11 جنوری 2026 کو اقلیتی درجہ کا سرٹیفکیٹ جاری کیا گیا تھا۔ ایک دوسری عرضی میں خود انجمن اشاعت تعلیم درخواست گزار ادارہ تھی، جب کہ تیسرے معاملے میں رامابائی امبیڈکر ودیالیہ، ناگاپور کو 13 اپریل 2023 کو اقلیتی درجہ دیا جا چکا تھا۔بنچ نے 17 اکتوبر 2025 کے حکومتی مکتوب کا بھی حوالہ دیا، جس میں واضح کیا گیا تھا کہ رائٹ ٹو ایجوکیشن (آر ٹی ای) قانون کی دفعات اقلیتی اداروں پر لاگو نہیں ہوتیں، لہٰذا ایسے اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے لیے ٹی ای ٹی لازمی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ اس وضاحت کے باوجود تعلیمی افسر نے تقرری کی منظوری کی درخواستیں مسترد کر دیں۔عدالت نے 16 اپریل 2026، 7 اپریل 2026 اور 25 مارچ 2025 کے مستردی احکامات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت دی کہ وہ 15 دن کے اندر اپنی منظوری کی درخواستیں دوبارہ جمع کریں۔ عدالت نے تعلیمی افسر کو یہ بھی حکم دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر بغیر کسی صورت میں ٹی ای ٹی شرط عائد کیے حتمی فیصلہ کریں۔یہ فیصلہ مہاراشٹر کے اقلیتی تعلیمی اداروں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ سے متعلق کئی زیر التوا معاملات پر وسیع اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے حالیہ فیصلے میں ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ جب بنیادی آئینی معاملہ خود سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہو تو صرف ٹی ای ٹی پاس نہ ہونے کی بنیاد پر اقلیتی اسکولوں کے اساتذہ کی تقرری کی منظوری مسترد نہیں کی جا سکتی۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.