اسٹریٹجک تعلقات میں پیش رفت
نئی دہلی؍ برلن۔ 30؍ اپریل۔ ایم این این۔ جرمنی اور بھارت کے درمیان آبدوزوں کی خریداری سے متعلق ایک اہم دفاعی معاہدہ حتمی مراحل میں داخل ہو گیا ہے، جسے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ بھارت کی بحریہ کے لیے جدید روایتی آبدوزوں کی فراہمی سے متعلق ہے، جس میں جرمن کمپنیوں کی جانب سے ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی سطح پر تیاری بھی شامل ہو سکتی ہے۔ اس اقدام کو بھارت کی “میک ان انڈیا” پالیسی کے تناظر میں بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے تحت بھارت کو جدید ترین اسٹیلٹھ صلاحیتوں سے لیس آبدوزیں حاصل ہوں گی، جو طویل عرصے تک پانی کے اندر رہنے اور جدید ہتھیاروں کے استعمال کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس سے بھارتی بحریہ کی آپریشنل صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب بحر ہند کے خطے میں بحری مسابقت اور سکیورٹی چیلنجز بڑھ رہے ہیں، اور بھارت اپنی بحری طاقت کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ دے رہا ہے۔دوسری جانب جرمنی کے لیے بھی یہ معاہدہ دفاعی برآمدات کے شعبے میں ایک اہم موقع ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان صنعتی اور تکنیکی تعاون کو نئی جہت دے سکتا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس معاہدے سے نہ صرف دفاعی تعاون میں اضافہ ہوگا بلکہ بھارت اور جرمنی کے درمیان وسیع تر اسٹریٹجک شراکت داری کو بھی تقویت ملے گی، جس میں ٹیکنالوجی، صنعت اور سکیورٹی کے شعبے شامل ہیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بھارت اپنی دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی تعاون بڑھا رہا ہے، جبکہ یورپی ممالک بھی ایشیا میں اپنی اسٹریٹجک موجودگی کو مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔
