نئی دہلی 24 جون (یواین آئی) وزیرخارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ دنیا میں موجودہ پیچیدہ حالات کو دیکھتے ہوئے یکساں سوچ، یکساں عقیدہ اور باہمی اعتماد والے ممالک کے ایک ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔جنوبی کوریا کے دورے پر گئے مسٹر جے شنکر نے وہاں کے وزیرخارجہ چو ہیون کے ساتھ میٹنگ سے پہلے ابتدائی کلمات میں کہا کہ دنیا کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے یہ میٹنگ بامعنی اور اہم ہے۔ انہوں نے کہا ، ” میں آپ سے متفق ہوں کہ ہماری یہ میٹنگ بالکل صحیح وقت پر ہو رہی ہے۔ صحیح وقت پر اس لیے بھی کیونکہ حال ہی میں صدر کا ہندوستان دورہ ہوا ہے اور اس لیے بھی کیونکہ دنیا کے موجودہ حالات اور اس تھوڑی پیچیدہ دنیا میں ہمارے رشتوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔”کوریائی وزیرخارجہ کے ساتھ نیویارک، کوالالمپور اور واشنگٹن میں ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزرائے خارجہ کے طور پر دونوں ممالک کے تعلقات کو آگے بڑھانا ہماری ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا،” ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ حکومت اور ہماری معیشت کے الگ الگ حصے ایک دوسرے کے ساتھ کیسے کام کرتے ہیں اور ان میں کیسا تال میل ہے۔ اور میں کہوں گا کہ اس مشکل دنیا میں ہمیں ایک ایسا رشتہ بنانا ہے جو مستقبل پر مرکوز ہو اور آج کے دور کے حساب سے ہو۔ اور وزیرموصوف ، مجھے لگتا ہے کہ ایسی دنیا میں خاص طور پر ان ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے جن کی سوچ ایک جیسی ہو، جن کے عقائد ایک جیسے ہوں اور جن کے درمیان گہرا باہمی بھروسہ ہو۔”
مسٹر جے شنکر نے کوریا کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ،” ہندوستان اور کوریا کے رشتوں میں ابھی بہت سے امکانات ہیں جنہیں عملی جامہ پہنانا باقی ہے – جیسا کہ ہم دونوں طرف کے لوگ محسوس کرتے ہیں – اور ہم ایسا کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔” وزیرخارجہ نے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان میٹنگ میں بامقصد بات چیت ہوگی۔
