ہومNationalجسٹس سورن کانتا شرما سے انصاف کی امید ختم؛سپریم کوٹ جایں گے

جسٹس سورن کانتا شرما سے انصاف کی امید ختم؛سپریم کوٹ جایں گے

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

کیجریوال نے ریکیوزل درخواست مسترد ہونے کے بعد جج سورن کانتا کی عدالت میں پیش ہونے سے انکار کیا

نئی دہلی، 27 اپریل (یو این آئی) دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے ایکسائز کیس میں سماعت سے ہٹںے کی (ریکیوزل) درخواست مسترد ہونے کے بعد جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں ذاتی طور سے یا اپنے وکیل کے ذریعہ پیش ہونے سے انکار کردیا ہے یہ پیش رفت جسٹس شرما کے اس تفصیلی حکم کے چند دن بعد ہوئی ہے جس میں انہوں نے کیس کی سماعت سے ہٹنے سے انکار کردیاتھا انہوں نے واضح کیا تھا کہ ’دباؤ میں جھکنے سے انصاف نہیں ملتا‘ اور جج کسی مدعی کے بے بنیاد اندیشوں کی بنیاد پر خود کو سماعت سے الگ نہیں کرسکتے۔جسٹس شرما نے یہ بھی تبصرہ کیا تھا کہ ان پر ذاتی حملے عدلیہ پر حملے کے مترادف ہیں اور درخواست کو ’اندازوں‘ اور ’مبینہ جھکاؤ‘ پر مبنی قراردیتے ہوئے خارج کردیا تھا۔اس کے بعد، مسٹر کیجریوال نے خط لکھ کر کہا کہ انہوں نے اس عدالت سے ’انصاف ملنے کی امید کھودی ہے‘ اور مہاتما گاندھی کے ’ستیہ گرہ‘ کے راستے پر چلنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ انہوں نے اپنی ’ضمیرکی آواز‘ سننے کے بعد کیا ہے۔کارروائی کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود، مسٹر کیجریوال نے کہا ہے کہ وہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے۔عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے جسٹس سورن کانتا شرما کی عدالت میں زیر سماعت اپنے کیس میں پیش نہ ہونے اور کوئی بھی دلیل نہ رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔مسٹر کیجریوال نے پیر کو یہ معلومات دیتے ہوئے کہا، “جسٹس سورن کانتا شرما سے انصاف ملنے کی میری امید ٹوٹ چکی ہے۔ اپنے ضمیر کی آواز سنتے ہوئے، بابائے قوم مہاتما گاندھی کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اور ستیہ گرہ کے جذبے کے ساتھ، میں نے اس کیس میں ان کے سامنے پیش نہ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔”انہوں نے کہا، “میں نے مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے جسٹس سورن کانتا شرما سے میرے کیس سے خود کو الگ کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن انہوں نے خود ہی سماعت کرنے کا فیصلہ سنایا۔ اس کیس میں جسٹس سورن کانتا شرما جو بھی فیصلہ سنائیں گی، میں اس پر اپنے قانونی حق کو استعمال کرنے کے لیے آزاد ہوں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے اور میں اس کا مکمل احترام کرتا ہوں، کیونکہ جب میرے خلاف سازشیں ہوئیں تو عدلیہ نے ہی مجھے الزامات سے بری کر کے انصاف دیا تھا۔”انہوں نے مزید کہا، “زندگی میں کئی بار ایسے مواقع آتے ہیں جب جیت یا ہار معنی نہیں رکھتے۔ اس سے بھی بڑا صحیح اور غلط کا سوال ہو جاتا ہے کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط۔ ایسے وقت میں ہمیں یہ طے کرنا ہوتا ہے کہ ہم مشکل راستہ چنیں گے یا آسان راستہ۔ آج میں بھی ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہوں۔ سب جانتے ہیں کہ مجھے ایک جھوٹے کیس میں پھنسایا گیا، جیل بھیج دیا گیا اور ایک منتخب حکومت کو غلط طریقے سے گرا دیا گیا۔ ہمیں کئی ماہ جیل میں رکھا گیا، لیکن آخر کار سچ کی جیت ہوئی۔”انہوں نے کہا، “میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مجھے عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔ جب مجھے جھوٹے مقدمے میں گرفتار کیا گیا تو اسی عدلیہ نے میری ضمانت منظور کی اور اسی عدلیہ نے مجھے اس جھوٹے مقدمے میں بری قرار دیا۔ گزشتہ 75 برسوں میں جب بھی ملک پر آنچ آئی، ہماری عدلیہ نے ملک کو بچایا اور شہریوں کے مفادات کا تحفظ کیا۔ میں جسٹس سورن کانتا شرما کا بھی بہت احترام کرتا ہوں اور مجھے ان سے یا ان کے خاندان سے کوئی ذاتی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن انصاف کا ایک بڑا اصول ہے کہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ اس لیے میں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کیس سے الگ ہو جائیں، لیکن انہوں نے میری دلیلیں مسترد کر دیں۔عآپ، لیڈر نے کہا کہ یہ بات میں نے آج ایک خط لکھ کر جسٹس سورن کانتا شرما کو بھی بتا دی ہے۔ میرا ان سے کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے۔ اگر مستقبل میں بھی کبھی ان کے سامنے میرا کوئی ایسا کیس لگتا ہے جس میں میرے خلاف بی جے پی، مرکزی حکومت یا تشار مہتا نہیں ہیں، تو میں ان کے سامنے ضرور پیش ہوں گا۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اگر میں ان کے حکم سے متفق نہیں ہوں تو سپریم کورٹ کیوں نہیں جا رہا؟ میں اس کی تیاری کر رہا ہوں۔ یہ پورا معاملہ بہت نازک اور حساس ہے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.