نئی دہلی، 10 مئی۔ ایم این این۔ بھارت کی بایوٹیکنالوجی صنعت نے گزشتہ چند دہائیوں کے دوران نمایاں ترقی کرتے ہوئے صحت، زراعت، ماحولیات اور صنعتی تحقیق کے شعبوں میں اپنی اہم موجودگی درج کرائی ہے۔ ماہرین کے مطابق تحقیق، اختراع اور سرکاری و نجی شعبوں کے تعاون نے اس صنعت کو عالمی سطح پر ایک اہم مقام دلانے میں مدد دی ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بھارت کی بایو اکانومی میں گزشتہ برسوں کے دوران مسلسل اضافہ ہوا ہے اور ملک میں بایوٹیکنالوجی سے وابستہ ہزاروں اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں۔ یہ ادارے ادویات، تشخیصی آلات، زرعی تحقیق، بایو فیول اور دیگر جدید مصنوعات کی تیاری میں مصروف ہیں۔بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں بھارت کی ترقی کی بنیاد طویل عرصے سے جاری سائنسی تحقیق اور تعلیمی اداروں کی کاوشوں پر ہے۔ زرعی پیداوار میں بہتری، بیماریوں کی تشخیص، ویکسین کی تیاری اور ماحول دوست حل کی تلاش میں اس شعبے نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
