ایرانی سفیر کا بھارت کو یقین دہانی اور آبنائے ہرمز میں سلامتی پر زور
نئی دہلی۔30؍ اپریل۔ ایم این این۔ ایران نے واضح کیا ہے کہ چابہار بندرگاہ کا اسٹریٹجک منصوبہ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود اپنی راہ پر گامزن ہے، جبکہ بھارت کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازرانی محفوظ رہے گی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے سفیر نے کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی اور امریکی پابندیوں کے باوجود چابہار منصوبہ نہ صرف جاری ہے بلکہ مستقبل میں اس کی رفتار مزید تیز ہونے کی توقع ہے۔ انہوں نے اس منصوبے کو بھارت ایران تعاون کی ایک اہم علامت قرار دیا۔ ایرانی سفیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے، میں بحری نقل و حمل محفوظ ہے اور ایران اس کی حفاظت کے لیے پرعزم ہے۔ یہ یقین دہانی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی خدشات کے باعث عالمی سطح پر تشویش پائی جا رہی ہے۔چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے ایک اہم تجارتی اور تزویراتی منصوبہ ہے، جو اسے افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی فراہم کرتا ہے، خاص طور پر پاکستان کو بائی پاس کرتے ہوئے۔ اگرچہ حالیہ مہینوں میں امریکی پابندیوں اور مالی غیر یقینی صورتحال کے باعث اس منصوبے کے مستقبل پر سوالات اٹھے ہیں، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اس تعاون کو جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ماہرین کے مطابق چابہار منصوبہ نہ صرف علاقائی رابطہ کاری بلکہ بھارت ایران تعلقات میں بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے، اور اس کی پیش رفت جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کو نئی جہت دے سکتی ہے۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا میں کشیدگی، توانائی کے خدشات اور عالمی سپلائی چین کے مسائل اہم موضوع بنے ہوئے ہیں، اور ایسے میں چابہار جیسے منصوبے کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
