مایوربھنج کے نوجوان کی بڑی کامیابی
بھوبنیشور۔28؍ اپریل۔ ایم این این۔ اوڈیشہ کے ضلع مایوربھنج سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان ٹیکنالوجسٹ نے جنگلات کے تحفظ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی ایک جدید نظام تیار کیا ہے، جسے “ڈیپ ایئر” کا نام دیا گیا ہے۔ یہ جدید سسٹم دراصل ایک “ڈیجیٹل کان” کی طرح کام کرتا ہے، جو جنگلات میں موجود آوازوں کو مسلسل سن کر ان کا تجزیہ کرتا ہے۔ اس نظام کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ درختوں کی غیر قانونی کٹائی، گولیوں کی آواز، غیر مجاز انسانی یا گاڑیوں کی نقل و حرکت اور کان کنی جیسی سرگرمیوں کی فوری نشاندہی کر کے متعلقہ حکام کو الرٹ بھیج سکے۔ اس کے علاوہ “ڈیپ ایئر” جنگلی جانوروں کی آوازوں کو بھی پہچاننے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس کے ذریعے ہاتھیوں اور شیروں جیسے جانوروں کی نقل و حرکت پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے۔ سسٹم کو اس طرح تربیت دی گئی ہے کہ یہ قدرتی آوازوں جیسے بارش، ہوا اور پرندوں کی چہچہاہٹ کو نقصان دہ آوازوں سے الگ پہچان سکے، جس سے غلط الارم کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ اس ٹیکنالوجی کی ایک نمایاں خصوصیت اس کا لانگ رینج کمیونیکیشن سسٹم ہے، جس کی مدد سے یہ آلہ دور دراز جنگلات میں بھی مؤثر طریقے سے کام کر سکتا ہے جہاں موبائل نیٹ ورک دستیاب نہیں ہوتا۔ لاگت کے لحاظ سے بھی یہ نظام خاص اہمیت رکھتا ہے۔ جہاں بین الاقوامی سطح پر اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی کی قیمت تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپے فی یونٹ تک ہوتی ہے، وہیں “ڈیپ ایئر” کو محض تقریباً 12 ہزار روپے میں تیار کیا گیا ہے، جس سے اس کے وسیع پیمانے پر استعمال کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ موجد دیب پرسانا مہانتی، جو باری پاڈا کے رہنے والے ہیں، نے اس ایجاد کے لیے پیٹنٹ کی درخواست بھی دے دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کے دور میں قدرت کے تحفظ کی ذمہ داری مزید بڑھ گئی ہے، اور یہی سوچ اس منصوبے کی بنیاد بنی۔ ماہرین کے مطابق یہ اے آئی نظام جنگلات کی نگرانی کے روایتی طریقوں میں ایک بڑی تبدیلی لا سکتا ہے اور غیر قانونی شکار اور درختوں کی کٹائی جیسے جرائم کی روک تھام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
