لاپتہ لڑکی کے اہل خانہ سے بند کمرے میں بات چیت کی
جدید بھارت نیوز سروس
گملا، 21 اپریل: گملا کے کھورا گاؤں سے سال 2018 میں لاپتہ ہونے والی 13 سالہ لڑکی (جو اب 21 سال کی ہو چکی ہے) کے معاملے میں جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے تفتیش کی سست رفتاری پر ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ڈی جی پی اور گملا ایس پی سے تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ ہائی کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر دو ہفتوں کے اندر تحقیقات میں کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہوئی تو یہ معاملہ سی بی آئی (CBI) کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ عدالت کی اس سختی کے بعد ریاست کی ڈی جی پی تداشا مشرا خود گملا پہنچیں۔ انہوں نے سرکٹ ہاؤس میں پولیس افسران کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی اور لاپتہ لڑکی کے اہل خانہ سے بند کمرے میں تقریباً دو گھنٹے تک تفصیلی بات چیت کی۔ ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس تمام پہلوؤں پر کام کر رہی ہے، لیکن ابھی تک کوئی سراغ نہیں مل سکا ہے، اس لیے اب پورے معاملے کا نئے سرے سے ریویو کیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں، سرکٹ ہاؤس پہنچنے پر ڈی جی پی کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ فی الحال پولیس ہائی کورٹ کی ڈیڈ لائن کے پیش نظر تحقیقات میں تیزی لانے کی کوشش کر رہی ہے۔
