ریاستی پروگرام میں مرکزی وزیر اور ریاستی وزراء سمیت اہم شخصیات نے شرکت کی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 21 جون :۔دارالحکومت رانچی سمیت پورے جھارکھنڈ میں 12واں عالمی یومِ یوگا پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ اس موقع پر اسکولوں، کالجوں اور سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں یوگا کے خصوصی پروگرام منعقد کیے گئے۔ ریاستی سطح کا مرکزی پروگرام رانچی یونیورسٹی کے سورن جینتی کنووکیشن پنڈال میں منعقد ہوا، جہاں سینکڑوں افراد نے اجتماعی یوگا مشق کی۔
مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، ریاستی وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری، بی جے پی ایم ایل اے سی پی سنگھ، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور کانگریس کے ریاستی صدر کیشو مہتو کملیش نے پروگرام میں شرکت کی۔ شرکاء نے ڈاکٹر ارچنا کماری کی زیرِ نگرانی یوگا پروٹوکول کے مطابق مشقیں کیں۔ اس موقع پر ایل ای ڈی اسکرینوں کے ذریعے کولکتہ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے یوگا پروگرام کا براہِ راست نشریہ بھی دکھایا گیا۔ اس سال کی مرکزی تھیم ’صحت مند عمر کے لیے یوگا‘ رکھی گئی ہے۔
صحت ہی اصل دولت
مرکزی وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے کہا کہ یوگا کسی مخصوص مذہب یا ذات کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی فلاح کے لیے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2014 میں وزیر اعظم کی کوششوں سے 177 ممالک نے یوگا کی حمایت کی تھی۔ دوسری جانب وزیر صحت ڈاکٹر عرفان انصاری نے کہا کہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ صحت ہے، اور یوگا اس کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جم نہیں جا سکتے، وہ بھی آسانی سے یوگا کر کے خود کو فٹ رکھ سکتے ہیں۔
سیاسی رہنماؤں کی نوک جھونک
اس دوران ایک دلچسپ منظر بھی دیکھنے میں آیا جب ریاستی وزیر صحت عرفان انصاری نے ایم ایل اے سی پی سنگھ کے سیاہ لباس پر چٹکی لیتے ہوئے پوچھا کہ کیا وہ ’بلیک ڈے‘ منا رہے ہیں؟ جس پر سی پی سنگھ نے جواب دیا کہ سوچ جیسی ہوتی ہے ویسے ہی خیالات ہوتے ہیں۔ بعد ازاں سی پی سنگھ نے بابا رام دیو کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یوگا کو گھر گھر پہنچانے کا اہم کام کیا ہے، جبکہ وزیر اعظم مودی نے اسے عالمی شناخت دلائی۔
تعلیمی اداروں میں سرگرمیاں
ریاست بھر کے اسکولوں میں بھی خصوصی پروگرام ہوئے جہاں چھٹی کے باوجود طلبا اور اساتذہ نے شرکت کی۔ ضلعی تعلیمی افسر بادل راج نے کہا کہ یوگا صرف جسمانی تندرستی نہیں بلکہ نظم و ضبط کی زندگی گزارنے کا فن ہے۔ اس موقع پر یوگا ریلیوں اور مضمون نویسی کے مقابلوں کا بھی اہتمام کیا گیا تاکہ نئی نسل کو اس قدیم ورثے سے جوڑا جا سکے۔
