ووٹر لسٹ کی میپنگ کا کام 15 جون تک مکمل کرنے کی ہدایت، حتمی اشاعت 7 اکتوبر کو ہوگی
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 2 جون:۔ جھارکھنڈ کے چیف الیکٹورل افسر کے روی کمار نے تمام متعلقہ افسران کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست میں 15 جون تک ووٹر لسٹ کی گزشتہ تفصیلی نظرثانی کے تحت ووٹروں کی میپنگ کا کام ہر حال میں مکمل کرنا یقینی بنائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ میپ شدہ ووٹروں کو ایس آئی آر عمل کے دوران عام طور پر کسی قسم کی دوسری دستاویزات جمع کرانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اگر کوئی ووٹر ان میپڈ پایا جاتا ہے، تو اس کا نام مسودہ ووٹر لسٹ سے منقطع نہیں کیا جائے گا، بلکہ ایسے ووٹروں کو ایس آئی آر کے عمل کے دوران ای آر او کی طرف سے نوٹس موصول ہونے کے بعد اپنی تاریخ پیدائش کے ثبوت کے طور پر اپنے، والدین یا دادا دادی اور نانا نانی سے متعلق دستاویزات پیش کرنے ہوں گے۔ ای آر او کی جانب سے دعوے اور اعتراضات کے تصفیے کے بعد ووٹر لسٹ کی حتمی اشاعت 7 اکتوبر 2026 کو کی جائے گی۔ کے روی کمار نرواچن سدن سے آن لائن ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ریاست کے تمام ضلعی انتخابی افسران کے ساتھ ایس آئی آر کی تیاریوں کا جائزہ لے رہے تھے۔ چیف الیکٹورل افسر نے جائزہ اجلاس کے دوران کہا کہ تمام افسران میپنگ کے کام کا گہرائی سے معائنہ کریں، کیونکہ اگر ووٹروں کی غلط میپنگ ہوتی ہے تو ایسے ووٹروں کی فہرست اینوملی (غلطی) کیس کے طور پر ظاہر ہوگی، جس پر ای آر او کو سماعت کرتے ہوئے مناسب احکامات جاری کرنے ہوں گے۔ ایسے ووٹروں کو بھی اَن میپڈ ووٹروں کی طرح ہی ایس آئی آر کے پورے عمل سے گزرنا ہوگا۔ انہوں نے افسران پر زور دیا کہ وہ اَن میپڈ ووٹروں کی فہرست میں شامل ہر ایک فرد سے رابطہ قائم کرنے کی کوشش کریں اور اس کے ساتھ ساتھ اس فہرست میں موجود غیر حاضر، دوسری جگہ منتقل شدہ، فوت شدہ، ڈپلیکیٹ اور غیر شہری زمرے کے ووٹروں کی بھی الگ سے نشاندہی کر لیں۔ کے روی کمار نے مزید کہا کہ ایس آئی آر کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ کوئی بھی اہل ہندوستانی شہری ووٹر لسٹ میں شامل ہونے سے محروم نہ رہے اور یہ عمل صرف اہل ملکی شہریوں کیلئے ہے، لہٰذا غیر ہندوستانی اس عمل میں شامل نہ ہو سکیں۔ اجلاس کے دوران چیف الیکٹورل افسر نے پی پی ٹی کے ذریعے تمام افسران کو میپنگ، ایس آئی آر کے طریقہ کار اور ضروری دستاویزات کے بارے میں نقطہ وار معلومات فراہم کیں اور موجودہ وقت میں جاری کاموں کی پیشرفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت دی کہ انومریشن فارم میں بی ایل او کے نام اور فون نمبر درج کیے جائیں اور 15 جون کے بعد کسی بھی بی ایل او کو تبدیل نہ کیا جائے۔ جائزے کے دوران کم میپنگ کرنے والے بی ایل اوز سے انہوں نے براہ راست آن لائن بات چیت کی اور کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے افسران کو ان کی صلاحیتیں بڑھانے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے تمام اضلاع کو 15 جون تک فارم 6، 7 اور 8 کے التوا کو صفر کرنے کا ہدف دیا۔ اس اہم موقع پر ایڈیشنل چیف الیکٹورل افسر سبودھ کمار، ٹریننگ نوڈل افسر دیو داس دتہ، ڈپٹی الیکٹورل افسر دھیرج کمار ٹھاکر، انڈر الیکٹورل افسر سنیل کمار سمیت تمام اضلاع کے ڈسٹرکٹ الیکٹورل افسراور ڈپٹی الیکٹورل افسر آن لائن موجود تھے۔
