صحت کا حق بنیادی حق ہے؛ رونگٹا اسٹیل پلانٹ پر ہائی کورٹ برہم
جدید بھارت نیوز سروس
رانچی، 16 اپریل: جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے سرائے کیلا کھرساواں میں واقع رونگٹا گروپ کے ‘چالایاما اسٹیل پلانٹ ‘ (CSP) کے باہر ٹرکوں کی بے ہنگم آمد و رفت اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف دائر مفاد عامہ کی عرضی پر اہم فیصلہ سنایا ہے۔ چیف جسٹس ایم ایس سوناک اور جسٹس راجیش شنکر پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ آئین کی دفعہ 21 کے تحت صحت کا حق ایک بنیادی حق ہے اور صنعتوں کے ذریعے عوامی سڑکوں کا غیر متوازن استعمال کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ عدالت نے پایا کہ پلانٹ میں پارکنگ کی کمی کی وجہ سے عوامی سڑکوں کا غلط استعمال ہو رہا ہے جس سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
ہائی کورٹ کے احکامات اور ہدایات
عدالت نے ریاستی حکومت اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ وہ ‘جھارکھنڈ بلڈنگ بائی لاز 2016’ کے رول 41 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔ پلانٹ انتظامیہ کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ اپنے احاطے کے اندر کافی پارکنگ ایریا تیار کرے تاکہ عوامی سڑکوں پر بھاری گاڑیوں کا ہجوم نہ لگے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے علاقے میں ٹریفک نظام کو بہتر بنانے، ایمرجنسی طبی سہولیات اور ٹراما سینٹر قائم کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ حادثات کی صورت میں فوری علاج مل سکے۔ ان تمام اصلاحات کے لیے 3 سے 18 ماہ کی وقت کی حد مقرر کی گئی ہے اور حکومت کو 6 ماہ کے اندر تعمیلی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
صنعتیں عوامی وسائل کا منصفانہ استعمال کریں
درخواست گزار ناگیشور آچاریہ کی جانب سے وکیل انوپم آنند نے عدالت کو بتایا تھا کہ اس اسٹیل پلانٹ سے روزانہ سینکڑوں ٹرک کچا مال لے کر نکلتے ہیں اور پلانٹ کے باہر سڑکوں پر کھڑے رہتے ہیں، جس سے ٹریفک جام اور حادثات معمول بن چکے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں دو ٹوک کہا کہ صنعتوں کو عوامی وسائل کا منصفانہ استعمال کرنا ہوگا اور یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مزدوروں اور عام عوام کی حفاظت اور صحت کو یقینی بنائے۔ اس فیصلے سے مقامی لوگوں کو ٹریفک جام اور فضائی آلودگی سے بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔
