ہومInternationalامریکی قیادت میں قائم غزہ مشن بند ہونے کے قریب

امریکی قیادت میں قائم غزہ مشن بند ہونے کے قریب

Facebook Messenger Twitter WhatsApp

امدادی ترسیل میں ناکامی اور ایران جنگ پر توجہ؛ ٹرمپ کے امن منصوبے کو شدید دھچکا

ذمہ داریاں امریکی کمان کے سپرد کیے جانے کا امکان

غزہ،02مئی (ہ س)۔ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران جنگ میں مصرف ہونے کے دورانیے میں دونوں ملکوں کے باہمی تعاون اور کوآرڈینیشن کے ساتھ کام کرنے والا ‘سول ملٹری کوآپریشن سنٹر’ صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کو لگنے والے دھچکوں کے باعث بند ہونے کے قریب آگیا ہے۔ان ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ کے زیر قیادت قائم کیا گیا یہ فورم بین الاقوامی سیکیورٹی مشن کے طور پر ان امور کی مانیٹرنگ کرتا ہے جو امریکہ کو سونپے گئے ہیں۔ اس کے ناقدین کے مطابق بھی یہ ادارہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کرنے اور اسرائیلی ناکہ بندی میں چلے آنے والے غزہ میں امدادی سامان کی ترسیل میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ اس لیے اب بند ہونے کے قریب ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ادارے ‘روئٹرز’ کو بتانے والے ذرائع کے بقول ‘سی ایم سی سی’ کو امریکہ کی انتظامیہ بند کرنے والی ہے۔ ‘رائٹرز’ کے مطابق اس کی بندش صدر ٹرمپ کے غزہ کے لیے امن منصوبے کے لیے سخت خطرناک ہو گی۔ کیونکہ ٹرمپ امن منصوبہ اسرائیل کے غزہ میں بار بار حملوں کی وجہ سے اور حماس کے خود کو غیر مسلح کرنے سے انکار کی وجہ سے پہلے ہی کھٹائی میں پڑا ہوا ہے۔یاد رہے دس اکتوبر 2025 سے صدر ٹرمپ کے امن منصوبے کے تحت ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے بعد ابھی اسرائیلی فوج کے غزہ میں فلسطینیوں پر جاری آئے روز کے حملوں میں 800 سے زائد فلسطینی قتل کیے جا چکے ہیں۔ جبکہ غزہ کی ناکہ بندی بھی بدستور جاری ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر امن مصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے لیے امن بورڈ کے پہلے باقاعدہ اجلاس کے فوری بعد اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ میں کود گئے تھے۔امریکی ذرائع اور حکام کا کہنا ہے کہ غزہ کے لیے اسرائیلی اشتراک سے قائم ‘سی سیم سی سی’ کی بندش کے لیے کوشش اس سے پہلے رپورٹ نہیں کی گئی ہے۔ تاہم اب اس کی راہ میں مشکلات نمایاں کی گئی ہیں۔ کیونکہ اسرائیل غزہ میں مزید علاقوں کو قبضے میں کر رہا ہے اور حماس اپنے زیر کنٹرول علاقے چھوڑنے کو تیار نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق امریکہ کے اتحادی ملک بھی اس صورت حال میں اپنے لیے آسانی محسوس نہیں کرتے ہیں۔ ان اتحادیوں سے صدر ٹرمپ نے ‘سی ایم سی سی’ کے لیے اپنے اہلکار دینے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے فنڈز دینے کے لیے کہا تھا۔ تاکہ اسرائیلی فوج نے دو برسوں کے دوران امریکی اسلحے اورحمایت کے ساتھ جو اندھی تباہی کی ہے اس کا کچھ ازالہ ہو سکے۔ خیال رہے امریکہ اور اسرائیل کا جنگی رخ اب ایران کی طرف ہے۔سول ملٹری کوآرڈی نیشن سنٹر کے آپریشنز سے جڑے سات مختلف سفارت کاروں کے مطابق یہ سنٹر جلد بند ہونے جارہا ہے۔ اس کی ذمہ داریاں خطے میں امریکی کمان کے حوالے کر دی جائیں گی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اسے غزہ میں تعینات کیا جائے گا۔امریکہ کے سفارتی حکام نجی طور پر غزہ کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کو نئے سرے سے دیکھنے کی کوشش میں ہیں۔ لیکن اس کوشش کے نتیجے میں یہ سنٹر عملاً بند کر دیا جائے گا۔ کیونکہ بین الاقوامی استحکام فورس کے ہوتے ہوئے یہ اس شکل میں نہیں رہے گا۔ایک سفارت کار نے امریکی منصوبے کے بارے میں کہا امریکی فوجیوں کی بین الاقوامی استحکام فورس میں تعداد 190 سے کم ہو کر 40 ارب جائے گی۔ امریکہ ان فوجیوں کی جگہ پر دوسرے ملکوں کے سویلین سٹاف کی تقرری کرنا چاہے گا۔ تاہم اس امریکی سفارت کار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی۔سفارت کار یہ بھی کہتے ہیں کہ ‘سی ایم سی سی’ کے پاس امن مںصوبے کے تحت جنگ بندی کیعملی نفاذ کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ جس سے جنگ بندی عمل شکل پاسکے۔ ابھی یہ بھی واضح نہیں ہے کہ بین الاقوامی استحکام فورس کے کام کرنے سے عملی فوائد بڑھ سکیں گے یا نہیں۔ایک عہدے دار جو ٹرمپ کے نام نہاد امن بورڈ سے منسلک ہے ‘سی ایم سی سی’ کے مستقبل پر تبصرہ کرنے سے تو انکار کر دیا البتہ یہ کہا اس سنٹر کا کردار اہم تر ہے۔ اس کا یہ بھی کہنا تھا یہ سنٹر امدادی ترسیل اور رابطہ کاری کی کوششوں میں بھی اہم ہے۔ تاکہ ٹرمپ کا منصوبہ آگے بڑھ سکے۔

Jadeed Bharathttps://jadeedbharat.com
www.jadeedbharat.com – The site publishes reliable news from around the world to the public, the website presents timely news on politics, views, commentary, campus, business, sports, entertainment, technology and world news.