بیجنگ، 13 مئی (یواین آئی) چین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورۂ چین سے قبل واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں چار اہم ’’سرخ لکیریں‘‘ واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان معاملات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔امریکہ میں قائم چینی سفارت خانہ کے مطابق تائیوان، جمہوریت و انسانی حقوق، چین کا سیاسی نظام اور ملک کے ترقیاتی حقوق وہ بنیادی معاملات ہیں جنہیں بیجنگ اپنے قومی مفادات کا حصہ سمجھتا ہے۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق چینی صدر شی جن پنگ اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ہونے والی دو روزہ ملاقات میں تائیوان کا معاملہ سب سے اہم موضوع ہوگا۔چین نے ایک بار پھر امریکہ کی جانب سے تائیوان کو اسلحہ فروخت کرنے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام چین کے اندرونی معاملات میں براہِ راست مداخلت کے مترادف ہے۔چین کے تائیوان امور کا دفتر کی ترجمان ژانگ ہان نے کہا کہ تائیوان ’’چین کے بنیادی مفادات کا مرکز‘‘ ہے اور امریکہ کو اپنے سابقہ وعدوں اور پالیسیوں کی پاسداری کرنا ہوگی۔انہوں نے واضح کیا کہ بیجنگ امریکہ اور تائیوان کے درمیان کسی بھی قسم کے فوجی روابط یا دفاعی تعاون کو قبول نہیں کرے گا۔چینی حکام کے مطابق تائیوان کے معاملے پر امریکی اقدامات نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو متاثر کر سکتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی خطرہ بن سکتے ہیں۔
تائیوان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، چین کا امریکہ کو دوٹوک پیغام
مقالات ذات صلة
