واشنگٹن، 16 اپریل (یو این آئی) امریکی وزارت خزانہ نے ایرانی کمپنیوں، بحری جہاز اور شخصیات پر نئی پابندیاں عائد کردیں۔
امریکی وزارت خزانہ کے مطابق ایران کے تیل کی نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے پرنئی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ یہ پابندیاں ایران کے اس مبینہ “شیڈو بینکنگ نیٹ ورک” کے خلاف لگائی گئی ہیں، جو ایرانی حکومت کے لیے مالی وسائل کی فراہمی میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔ 12افراد، کمپنیاں اور جہازوں پر پابندی عائد کی گئی ہے، پابندیوں کی زد میں آنے والے افراد اور کمپنیاں محمد حسین شمخانی کیلئے کام کررہے تھے۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق محمد حسین شمخانی پر الزام ہے کہ وہ ایران کی تیل تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کو خفیہ ذرائع سے منتقل کرنے میں ملوث ہے۔ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ ایران کی غیر قانونی اسمگلنگ اور اس کے پراکسی نیٹ ورکس کو ختم کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول نے احکامات جاری کیے۔ محمد حسین شمخانی شہید آیت اللہ خامنہ ای کے مشیراعلیٰ کے صاحبزادے ہیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں کا مقصد ایرانی حکومت کی آمدنی محدود کرنا اور خطے میں اس کی سرگرمیوں کے لیے مالی وسائل کی فراہمی روکنا ہے۔واشنگٹن نے واضح کیا ہے کہ یہ اقدامات ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی پالیسی کا حصہ ہیں، تاکہ تہران کی علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں کو روکا جاسکے۔
ایرانی کمپنیوں اور شخصیات پر نئی امریکی پابندیاں عائد
مقالات ذات صلة
