امریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا
امریکہ میں 63 فیصد لوگوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار ٹرمپ کو قرار دیا
ویانا، 8 مئی (یو این آئی) بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ فتح بیرول نے کہا ہے کہ امریکہ ایران جنگ ختم ہوگئی تب بھی تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا امکان جاری رہے گا۔فتح بیرول نے ایک بیان میں کہا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد تیل کی سپلائی بتدریج بہتر ہوگی لیکن تیل کی حفاظت ایک اہم مسئلہ رہےگی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی توانائی کی منڈیاں مشکلات کی طرف جارہی ہیں کیونکہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر تیل کی سپلائی متاثر رہی تو آئی ای اے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر سے مزید تیل جاری کرنے کے لیے تیا رہے۔امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لیے ایران کا نیا نظام ناصرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔اقوام متحدہ میں سلامتی کونسل قرارداد سے متعلق پریس کانفرنس کرتے ہوئے مائیک والٹز نے کہا کہ بحرین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور قطر کی حمایت یافتہ قرارداد میں ایران سے آبنائے ہرمز میں حملے بند اور ٹول ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے نئے نظام میں سویلین شپنگ کے تمام جہازوں سے مطالبہ کررہاہے کہ آبنائے ہرمز استعمال کرنے کے لیے ٹول ادا کریں، آبنائے ہرمز کنٹرول کرنے کے لیے ایران کا نیا نظام ناصرف خطے بلکہ پوری دنیا کو متاثر کرے گا۔ادھر ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس اور سلامتی کونسل رکن ممالک کو خط میں قرارداد کا مسودہ یک طرفہ اور نامکمل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی موجودہ صورت حال کی اصل وجہ ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیلی فوجی جارحیت اور طاقت کا غیر قانونی استعمال ہے ، اس بات کا قرارداد کے مسودے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔
81 فیصد امریکی پیٹرولیم قیمتوں میں تاریخی اضافے کے باعث مالی دباؤ محسوس کررہے ہیں، زیادہ تر امریکی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کا ذمہ دار صدر ٹرمپ کو ٹھہراتے ہیں۔این آر پی پی بی ایس نیوز اور مارسٹ پول کے مطابق ہر 10 میں سے 8 امریکی پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے گھریلو بجٹ میں غیرمعمولی دباؤ محسوس کررہے ہیں۔ 19 فیصد امریکی کہتے ہیں انہیں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے سے کوئی فرق محسوس نہیں ہوا۔ 27 سے 30 اپریل تک کیے گئے سروے میں 63 فیصد امریکیوں نے پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے لیے صدر ٹرمپ کو ذمہ دار ٹھہرایا۔پول میں 37 فیصد عوام نے ٹرمپ کو کم ذمہ دار ٹھہرایا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ میں جمعرات کے روز گیسولین کی قیمت بڑھ کر 4 ڈالر 56 سینٹ فی گیلن ہوگئی ، جو ایران جنگ شروع ہونے سے پہلے 2 ڈالر 98 سینٹ فی گیلن تھی۔
