واشنگٹن، 27 اپریل 2026(یو این آئی) امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے ایک امریکی عہدے دار اور دو باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ایران نے امریکہ کو نئی تجاویز پیش کی ہیں، جن میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے اور جنگ کا خاتمہ کیا جائے، جب کہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر رکھا جائے۔تفصیلات کے مطابق ایران نے امریکہ کو آبنائے ہرمز کھولنے کے بدلے جنگ بندی معاہدے کی پیشکش کر دی ہے اور پاکستان کے ذریعے نئی تجاویز پہنچا دیں، جن میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ جوہری معاملے کو بعد کے مرحلے تک ملتوی کیا جائے۔ ایرانی تجویز میں جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ کرنا بھی شامل ہے، عباس عراقچی نے پاکستان میں نئی تجویز سے متعلق بات چیت کی، دراصل نئی ایرانی تجویز کا مقصد جوہری معاملے پر ڈیڈ لاک کو ختم کرنا ہے۔ایکسیوس نے لکھا کہ مذاکرات کے سلسلے میں سفارتی عمل تعطل کا شکار ہے اور ایرانی قیادت اس بات پر منقسم ہے کہ جوہری پروگرام کے حوالے سے کون سی رعایتیں پیش کی جائیں۔ ایرانی تجویز اس مسئلے کو وقتی طور پر نظرانداز کرتے ہوئے ایک تیز تر معاہدے کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ایران چاہتا ہے کہ پہلے آبنائے ہرمز اور امریکی ناکہ بندی کا معاملہ حل ہو، ایرانی تجویز ہے کہ طویل عرصے کی جنگ بندی یا جنگ ختم کرنے کا معاہدہ کیا جائے، ناکہ بندی ختم ہونے سے پہلے جوہری مذاکرات نہیں ہو سکتے۔ تاہم، ناکہ بندی ختم کرنے اور جنگ کے خاتمے سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے مستقبل کی کسی بھی بات چیت میں دباؤ کا عنصر ختم ہو جائے گا، جس کا مقصد ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ختم کروانا اور تہران کو افزودگی روکنے پر آمادہ کرنا ہے، جو ٹرمپ کے لیے جنگ کے دو بنیادی اہداف ہیں۔پاکستانی ثالثوں نے ایران کی نئی تجاویز وائٹ ہاؤس تک پہنچا دی ہیں، ٹرمپ آج پیر کو ایران کی نئی تجویز سے متعلق اپنے اعلیٰ قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے مشیروں کے ساتھ سیچویشن روم میں ایک اجلاس کریں گے، جس میں ایران مذاکرات تعطل اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ٹرمپ نے اتوار کے روز فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اشارہ دیا تھا کہ وہ بحری ناکہ بندی جاری رکھنا چاہتے ہیں، جو ایران کی تیل برآمدات کو بری طرح متاثر کر رہی ہے، اس امید کے ساتھ کہ آئندہ چند ہفتوں میں تہران دباؤ میں آ جائے گا۔
ایران نے پاکستان کے ذریعے امریکہ تک نئی تجاویز پہنچا دیں: ایکسیوس
مقالات ذات صلة
