امریکہ 20 سالہ پابندی کا خواہاں، تہران 5 سال پر آمادہ
نیویارک، 14 اپریل (یو این آئی) ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں تہران کا جوہری پروگرام اختلاف کی وجہ بنا۔امریکی نشریاتی ادارے ایکسیوز کے مطابق واشنگٹن نے یورینیئم افزودگی پر 20 سالہ پابندی کی تجویز پیش کی، جبکہ ایران نے زیادہ سے زیادہ 5 سال کے لیے اس عمل کو معطل کرنے کی آمادگی ظاہر کی۔نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے ایرانی جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق تجاویز کا تبادلہ کیا، تاہم کسی بھی معاہدے کی مدت کے معاملے پر واضح اختلاف برقرار رہا۔ رپورٹس کے مطابق تہران نے یورینیئم افزودگی کو 5 سال تک معطل کرنے کی پیشکش کی، جسے ٹرمپ انتظامیہ نے مسترد کرتے ہوئے 20 سالہ مدت پر اصرار کیا۔ اس حوالے سے نیویارک ٹائمز نے 2 سینئر ایرانی اور 1 امریکی عہدیدار کے حوالے سے تفصیلات شائع کی ہیں۔یہ پیش رفت ٹرمپ انتظامیہ کے سابقہ مؤقف سے نمایاں تبدیلی کو ظاہر کرتی ہے، جس میں ایران سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اندرونِ ملک یورینیم افزودگی کو مستقل طور پر ختم کرے، کیونکہ اس سے جوہری ہتھیاروں کی صلاحیت حاصل کرنے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا رہا ہے۔ سیاسی ماہر ایان بریمر کے مطابق جاری اختلافات کے باوجود امکان ہے کہ امریکہ اور ایران یورینیئم افزودگی کی معطلی کے لیے ساڑھے 12 سالہ معاہدے پر متفق ہو جائیں۔امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے حل کے لیے اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات تھی، جبکہ یہ ایران کے 1979ء کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کا رابطہ بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ تہران کے جوہری پروگرام پر تعطل کے باعث اسلام آباد مذاکرات کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے، اس کے باوجود حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا عمل مکمل طور پر ختم نہیں ہوا اور امن معاہدے کی راہ اب بھی موجود ہے، حتیٰ کہ پیر کے روز امریکی فوج کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کے آغاز نے تقریباً ایک ہفتہ قبل ہونے والی جنگ بندی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق حکام نے بتایا ہے کہ فریقین کے درمیان آمنے سامنے مذاکرات کے دوسرے دور پر بھی غور کیا جا رہا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
