اقوام متحدہ نے واقعے کو المیہ قرار دیا
نیو یارک، 16 اپریل:۔ (ایجنسی) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین (UNHCR) اور بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرین (IOM) کی جانب سے جاری کردہ ایک مشترکہ بیان کے مطابق، بحیرہ انڈمان میں ایک کشتی الٹنے کے نتیجے میں 250 سے زائد روہنگیا پناہ گزین اور بنگلہ دیشی شہری لاپتہ ہو گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ کشتی بنگلہ دیش کے ضلع کاکس بازار کے علاقے ٹیکناف سے روانہ ہوئی تھی اور ملائیشیا کی جانب جا رہی تھی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق، کشتی میں گنجائش سے زیادہ مسافر سوار تھے اور سمندر میں تیز ہواؤں اور طوفانی صورتحال کے باعث اس پر سے قابو ختم ہو گیا، جس کے نتیجے میں یہ حادثہ پیش آیا۔اقوام متحدہ کے اداروں نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ المیہ روہنگیا پناہ گزینوں کی بے دخلی کے تباہ کن اثرات اور ان کے لیے کسی پائیدار حل کی عدم موجودگی کو واضح کرتا ہے۔ بیان میں بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش میں مقیم پناہ گزینوں کی جان بچانے والی امداد کے لیے فنڈنگ اور یکجہتی کو برقرار رکھے۔ اداروں نے میانمار میں جاری بحران کی بنیادی وجوہات کو حل کرنے اور پناہ گزینوں کی محفوظ و باوقار واپسی کے لیے حالات سازگار بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔ واضح رہے کہ میانمار کی ریاست رخائن سے تعلق رکھنے والے روہنگیا مسلمان کئی دہائیوں سے منظم ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ انہیں میانمار کے 1982 کے شہریت قانون کے تحت حقوق سے محروم کر دیا گیا تھا۔ خاص طور پر 2017 میں شروع ہونے والی فوجی مہم کے بعد 7 لاکھ سے زائد افراد ہجرت کر کے بنگلہ دیش پہنچے تھے۔ پناہ گزین کیمپوں میں محدود حقوق اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں ہر سال خطرناک سمندری راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، جو اکثر اس طرح کے جان لیوا حادثات پر منتج ہوتے ہیں۔
