کم مقدار میں کھانا فراہم کیے جانے کی تصاویر جاری کردیں
واشنگٹن، 25 اپریل (یو این آئی) ایران جنگ کے دوران امریکی بحری جہازوں پر تعینات فوجیوں کو فراہم کیے جانے والے ناقص معیار اور کم مقدار کے کھانے سے متعلق مزید تصاویر سامنے آگئیں۔امریکی جریدے نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق یہ تصاویر امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر تعینات ایک فوجی کی جانب سے فراہم کی گئی ہیں۔ جریدے کے مطابق فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی این ایک جی او کے سربراہ اور امریکی فضائیہ کے ریٹائرڈ اہلکار جیرالڈ ڈی گیونز جونیئر نے بتایا کہ انہیں یہ تصاویر ایک دوست کے ذریعے موصول ہوئیں جس کا بیٹا مشرق وسطیٰ میں اسی جہاز پر خدمات انجام دے رہا ہے۔گیونز نے امریکی جریدے کو بتایا کہ ’میرے دوست نے کہا کہ اس کے بیٹے کا وزن 17 پاؤنڈ کم ہو گیا ہے‘۔ رپورٹ کے مطابق افسر کی جانب سے بھیجی گئی تصاویر میں کھانے کی ٹرے میں بہت کم مقدار میں خوراک دکھائی گئی، جن میں ایک گوشت کا ٹکڑا، تھوڑی مقدار میں کٹا ہوا گوشت اور محدود سائیڈ آئٹمز شامل تھے۔جریدے کے مطابق پینٹاگون نے جہازوں پر خوراک کی کمی کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے نئی تصاویر پر تبصرہ نہیں کیا۔ جریدے کے مطابق ایک ہفتہ قبل بھی دو امریکی جہازوں پر فراہم کیے جانے والے کھانوں کی تصاویر سامنے آئی تھیں جن پر آن لائن شدید تنقید کی گئی تھی۔ اُن تصاویر میں بھی گوشت اور سبزیوں کی کم مقدار دکھائی گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق فوجیوں کو کیئر پیکجز کی ترسیل بھی متاثر ہوئی ہے کیونکہ خطے کی صورتحال کے باعث امریکی پوسٹل سروس نے خطے کے 27 فوجی زپ کوڈز پر میل ڈیلیوری معطل کر دی ہے جس کے باعث اہلخانہ کی جانب سے بھیجے گئے پیکجز فوجیوں کو نہیں مل رہے۔
